ذیابیطس: منطقی حل تلاش کرنے کی ضرورت: سالار لطیف

ذیابیطس دنیا کے اندر ایک تیزی سے بڑھتے ہوئے مرض کے طور پر پہچانا جا رہا ہے ۔ بنیادی طور پر ذیابیطس خون میں گلوکوس کی مقدار بڑھ جانے کے باعث ہوتی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی علامات میں شدید بھوک و پیاس ، کمزوری، وزن کا تیزی سے کم ہونا، دندھلی بینائی، پیروں میں جلن وغیرہ شامل ہیں۔ گوکہ ذیابیطس کو قابو میں رکھنے کے لئے ادویات کا استعمال بھی بے حد ضروری ہے لیکن اس بیماری کی بنا پر مریض کا ذہنی دباؤ اس کے لئے مزید خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان کے اندر متاثرہ مریضوں کے درمیان اگر ایسا کوئی سروے وغیرہ کیا جائے تو ان نتایج آنے کے بھی امکانات ہیں کہ یہاں ذیابیطس سے متاثر مریضوں میں اس بیماری کی شدت کا ایک باعث اس طرح کا ذہنی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس کے حوالہ سے جانکاری حاصل کرنے کی غرض سے جب انٹرنیٹ کے ذریعے کوشش کی گئی تو “بین الاقوامی فیڈریشن برائے ذیابیطس” نامی ایک ادارے کی ویب سائٹ سے کچھ حیرت انگیز اعداد و شمار سامنے آئے جن کے مطابق پاکستان کا شمار ان کے “مینا” ریجن میں ہوتا ہے جس سے مراد “مڈل ایسٹ اینڈ نارتھ آفریقا” ہے اور اس ریجن میں شامل 19 ممالک میں ذیابیطس سے متاثر افراد کا تعداد تین کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ مذکورہ ادارے کے مطابق بشمول مینا ریجن، دنیا میں ذیابیطس کا شکار ہونے والے مریضوں کا تعداد 42 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہے اور انہی اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بھی پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ اگر اسی رفتار سے ذیابیطس میں اضافہ ہوتا رہا تو 2045ع تک مینا ریجن میں مریضوں کا تعداد 6 کروڑ 70 لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔ پاکستان میں 2017ع تک ذیابیطس کے مریضوں کا تعداد 74 لاکھ 74 ہزار تھا جو اب بہت زیادہ بڑھ چکا ہوگا۔
ذیابیطس کے حوالہ سے دنیا کے آئینہ میں پاکستان کے اعداد و شمار تو اپنی جگہ لیکن اس کے برعکس پاکستانی مریض کا ا

س بیماری کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کا عنوان قابلِ غور و بحث ہے۔دنیا سائنس و ٹیکنالاجی سے لیس ہوتی ہوئی ترقی کی راہوں پر گامزن ہے اور دوسری جانب ہم ہیں کے پے ادر پے اپنی غیر منطقی روایات اپنے اوپر مسلط کیے جارہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جس کے باعث ہم جان لیوا بیماریوں سے نجات کے لئے بھی کسی مستند ادارے یا معالج سے رجوع کرنے کی بنصبت کسی عامل کے ہاتھوں معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے میں یقین رکھتے ہیں اور اسی طرح ذیابیطس سے بھی جب بھی کوئی متاثرہوتا ہے تو ہمیں اپنے گرد طرح طرح کے من گھڑت ٹوٹکے سنائی دیتے ہیں۔ ایک طرف مریض ذیابیطس کا سن کر پہلے سے ہی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو دوسری جانب ہمارا نیم حکیم خطرہِ جاں بنا ہوا معاشرہ اپنے غیرمنطقی طرزِ حکمت سے اس مرض کو مزید پیچیدگیوں کی نذر کر دیتا ہے۔ محظ یہی نہیں بلکہ مریض کو اپنی اپنی مرضی کے مختلف ڈاکٹروں کے پاس ریفر کرنے کا قومی فریضہ بھی ہم عین اسی طرح انجام دیا کرتے ہیں جس طرح راستوں پر آوارہ گردی کرتے ہوئے لڑکے پاس سے گذرتی ہوئی گاڑی کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دوپٹہ کے لئے لڑکیوں کو آگاہ کرنا نیکی سمجھتے ہیں قطعہ نظر اس حقیقت سے کہ اس مریض کی ذیابیطس ٹیسٹ وغیرہ کے نتائج کی روشنی میں کس مرحلہ پر ہے ؟ اور عین یہی مرحلہ ہوتا ہے جہاں سے بیماری انسان کے اوپر حاوی ہونے لگتی ہے خواہ وہ ذیابیطس ہو یا کوئی اور مرض۔
دو روز قبل اسی طرح متاثرینِ معاشرہ بن کر میں اپنی والدہ کو لئےذیابیطس کا کوئی اچھا ڈاکٹر تلاش کرتا ہوا خیرپور سے کراچی پہنچا تو یہاں پہنچ کر ناظم آباد میں واقع ذیابیطس کے “بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبٹولوجی اینڈ اینڈوکرونولوجی” نامی ایک ایسے ادارے کا پتہ چلا جو ذیابیطس کے مریضوں کے لئے بہترین خدمات انجام دے رہا ہے۔ میں نے بنا دیر وہاں پہنچنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پہنچ کر خوش قسمتی سے پتہ چلا کہ اگلے روز ڈاکٹر عاصم بن ظفر نامی ذیابیطس کے ایک ماہر بیٹھ رہے ہیں۔ دوسرے روز میں اپنے بھائی ارسلان لطیف اور والدہ کے ہمراہ وقت سے آدھا گھنٹا قبل وہاں پہنچا اور ڈاکٹر صاحب کے وقت سے دس منٹ قبل ہی ہمیں بلایا گیا اور علاج کی شروعات ہو گئی۔ یہاں ہمیں یہ بتایا گیا اس ادارے میں آنے والے ہر نئے مریض کو دس مختلف مراحل سے گذرنے کے بعد اپنے ڈاکٹر کے پاس پہنچنا پڑتا ہے اور وہ دس مراحل یہ تھے۔
1۔ استقبالیہ اور رجسٹریشن
2۔ اسسٹنٹ ڈاکٹر سے معائنہ
3۔ لیب ٹیسٹ دینا
4۔ پاؤں کا معائنہ
5۔ ماہرِ خوراک سے ملاقات
6۔ ماہرِ تعلیم سے ملاقات
7- آنکھوں کا معائنہ
8۔ دانتوں کا معائنہ
9- ٹیسٹ کی رپورٹ حاصل کرنا

10- کنسلٹنٹ سے معائنہ

تقریبن ڈھائی گھنٹوں میں ان دس مراحل سے ہوتے ہوئے جب ہم ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو دو ڈاکٹروں کا پینل وہاں موجود تھا ۔ ڈاکٹر عاصم بن ظفر صاحب ان دونوں میں سے سینیئر ڈاکٹر تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ مریض سے ملاقات کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرکے کسی متفقہ نتیجہ پر پہنچ کر پھر ہی علاج بتا رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچنے سے قبل جن دس مراحل سے گذر کر یہاں پہنچنا پڑا، ان کے نتائج ہسپتال کے خودکار کمپیوٹر سسٹم میں اپڈیٹ ہوتے ہوئے اگلے مرحلہ پر موجود کمپیوٹر پر فیڈ ہوتے جارہے تھے جس کے پیشِ نظر ہر مرحلے پر موجود ماہر مریض سے کچھ بھی پوچھنے جے بجائے سمجھا رہا تھا اور مریض کا خوف ختم کرنے کی غرض سے اپنے تمام وسائل بروئے کار لا رہا تھا جس سے مریض کے ذہن سے ذیابیطس کا خوف ختم ہوتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا جو بنیادی طور پر کسی بھی بیماری سے نجات کے لئے پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب سے فارغ ہونے کے بعد بھی ہمیں دوبارہ ماہرِ تعلیم کے پاس بھیجا گیا جہاں پہلے سے ہی ان کے کمپیوٹر میں لکھا آرہا تھا کہ اب کون سا مریض آپ کے پاس آرہا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی مریض کو انتظار نہیں کرنا پڑتا اور مرحلیوار وہ اپنے علاج کے تمام مراحل سے ہوتا ہوا ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے۔ ماہرِ تعلیم نے ادویات سمجھاتے ہوئے ہمیں پاؤں کے ماہرین کے کمرے میں جانے کو کہا جہاں مریض کے پیروں کو سکین کرتے ہوئے کمپیوٹر کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مریض کو کس طرح کی جوتیاں پہننی چاہئے اور اس کے بعد وہاں اسے جوتی کی ناپ دے کر وہیں سے وہ جوتی حاصل کرنے کی بھی سہولت موجود تھی۔ اس کے بعد مریض کو ہسپتال میں سے رخصت ہونے سے قبل ایک مرتبہ استقبالیہ پر آنا تھا جہاں پر ہسپتال کی ہیلپ لائن کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونا تھا جس کا فائدہ یہ تھا کہ مریض کو دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آنے کی ضرہرت نہیں ہے۔ چنانچہ، وہ ہر دو دن بعد اس ہیلپ لائن پر فون کرکے اپنی ذیابیطس کی سطح بتا کر وہاں نوٹ کروانے کا پابند ہوگا جس کا ڈاکٹر صاحب کی ٹیم مسلسل معائنہ کرتی رہے گی اور جب ضرورت محسوس ہوئی اسی صورت مریض کو دوبارہ ہسپتال آنے کو کہا جائے گا۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ذیابیطس کے مریض کھانے میں بے انتہا پرہیز سے کام لیتے ہیں اور ارد گرد کی باتیں سنتے ہوئے زندگی بھر کا روزہ ہی رکھ لیتے ہیں لیکن اس ادارے میں جا کر مجھے یہ بھی پتا چلا کہ ذیابیطس کی صورت میں محظ شکر، شہد، دل، گردہ، کلیجی، جھینگےاور گھی کے علاوہ سب کچھ اپنے ڈاکٹر کے مشورہ سے کھایا جا سکتا ہے بشرطکہ مریض کی ادویات اپنے وقت پر پابندی سے کھائی جاتی ہوں اور مریض ضرورت سے زیادہ کچھ بھی نہ کھائے۔ کھانے کے حوالہ سے یہ بھی بات پتہ چلی کہ ذیابیطس کے مریض کو زیاسہ دیر بھوک برداش نہیں کرنی چاہئے اور تقریبن ڈھائی گھنٹوں کے وقفہ کے بعد کچھ نہ کچھ کھا لینا چاہئے اور ننگے پاؤں چلنے سے بھی گریز کرنا چاہئے خواہ وہ قالین پر ہی کیوں نہ چلے؟
البتہ میں اپنی والدہ کی ذیابیطس کے بارے میں بے انتہا پریشان تھا اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کس ڈاکٹر سے رجوع کروں لیکن یہاں پہنچ کر بجھے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ پاکستان میں اکثر و بیشتر اس اہم ترین ادارے کی خدمات کا علم نہیں رکھتے اور وہ اس خطرناک مرض کے ساتھ طرح طرح کے ٹوٹکوں کی بدولت نمٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس لئے ہمیں اپنے گرد موجود تمام ذیابیطس سے متاثرہ مریضوں کی رہنمائی کرنی ہوگی کہ اپنا وقت برباد کرنے سے گریزان ہوتے ہوئے ایک ایسے ادارے سے رجوع کرنا چاہئے جہاں
پہنچ کر ذیابیطس جیسا مرض بہت چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔

سالار لطیف

اپنا تبصرہ بھیجیں