تمباکونوشی کی روک تھام کا عالمی دن اورپاکستان میں تمباکونوشی کی روک تھام کے قوانین پر عملدرآمد

تمباکو نوشی کی روک تھام کا عالمی دن دنیا بھر میں ہر سال 31مئی کو منایا جاتا ہے، اس دن کے اعتبار سے مختلف ممالک میں تمباکو نوشی کے استعمال سے انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے متعلق آگہی سیمینار، پریس کانفرنس اور واک کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ تمباکونوشی کے خطرات سے نوجوان نسل کو محفوظ رکھنے کے لئے حکومتوں سے موثر قوانین بنانے اور موجودہ قوانین پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب دنیا بھر میں اس سال تمباکونوشی کی روک تھام کے عالمی دن کو گزشتہ برسوں کی طرح منانا ممکن نہیں رہا، لیکن اس حالیہ وباء نے دنیا کی توجہ ایک بار پھر تمباکو نوشی کے خطرات کی جانب مرکوز کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو اس وائرس سے ذیادہ خطرات لاحق ہیں۔

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق تمباکو کے استعمال سے دنیا بھر میں ہر سال 8 ملین افرادجاں بحق ہوتے ہیں، اس تعداد میں 7 ملین افراد وہ ہیں جو تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک ملین سے ذائد افراد صرف سگریٹ کے دھویں سے جاں بحق ہوتے ہیں۔

مزکورہ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ کرونا وائرس پھیپڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ سگریٹ نوشی کے استعمال سے انسانی جسم میں پھیپڑے سب سے ذیادہ متاثر ہوتے ہیں جس کے سبب سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں اس وائرس سے مقابلہ کرنے کے لئے قوت مدافعت نہیں ہوتی اور ایک عام فرد کے مقابلے میں ان کی جلد موت ہوجاتی ہے۔

وزارت قومی صحت کے ماتحت توباکو کنٹرول سیل کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق پاکستان میں سال 2017میں تمباکو کے استعمال سے 163,360اموات ہوئیں۔

گلوبل اڈلٹ توباکو سروے سال 2015 کے مطابق پاکستان میں 23.9 ملین افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جبکہ اس میں 15.6 ملین افراد وہ ہیں جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اور 3.7 ملین افراد شیشہ یا حقہ کے ذریعے تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ دی توباکو ایٹلس کے چھٹے ایڈیشن برائے سال 2018 کے مطابق پاکستان میں ہر سال تمباکو کے استعمال کے سبب 160,100 افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور 1999 میں نیشنل ہیلتھ سروے کی رپورٹ کے مطابق تمباکو کے استعمال سے پاکستان میں روزانہ پانچ ہزار افرادہسپتالوں میں داخل ہوتے ہیں۔

شہرکراچی جس کو پاکستان کا معاشی حب بھی کہا جاتا ہے یہاں تمباکونوشی کی روک تھام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی عروج پر ہے، اس کی اہم وجہ شہر میں مزکورہ قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی عدم دلچسپی اور توباکو کنٹرول سیل کی عدم موجودگی ہے۔

پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام سے متعلق موثر قوانین موجود ہیں لیکن ان قوانین پر عملدرآمد تاحال حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
توباکو کنٹرول سیل جس کے دفاترصوبہ پنجاب کے پانچ اضلاع اورخیبر پختونخواہ کے شہر پشاور میں موجود ہیں، اس سیل کی کارکردگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو 2007 میں اس سیل کے قیام سے لے کر آج تک تمباکو نوشی کی روک تھام سے متعلق بیشتر ایسے اقدامات کئے گئے ہیں جن کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

اس وقت توباکو کنٹرول سیل جس کانام توباکو کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کے نام سے تبدیل کردیا گیا ہے، یہ ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر منہاج السراج کی سربراہی میں کام کرہا ہے جبکہ مستقبل قریب میں ادارہ صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس ڈائریکٹوریٹ کی کامیابیوں کی بات کی جائے تو اس میں اسلام آباد کے تمام عوامی مقامات اور اس شہر میں ہونے والے تمام پروگرامز کو اسموک فری قرار دیا جا چکا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ڈاکٹر منہاج کی کاوشوں کی بدولت حکومت پاکستان نے سگریٹ کی کمپنیوں کے پوائنٹ آف سیل یعنی سگریٹ کی فروخت و دیگر عوامی مقامات پر ان کمپنیوں کے اشتہارات جس میں پوسٹر، سائن بورڈ و دیگر شامل میں ان پر ملک بھر میں پابندی عائد کر دی ہے، جبکہ کچھہ عرصہ قبل کھلی سگریٹ کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ اسموک فری پاکستان ایپلیکیشن بھی اس ڈائریکٹوریٹ کا ایک اہم کارنامہ ہے جس کے ذریعہ شہری تمباکو نوشی کی روک تھام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب28 مئی 2020 کو روزنامہ دی نیوزمیں شائع خبر کے مطابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے فائنانس بل 2021-2020 کے حوالے سے سگریٹ نوشی کے خطرات سے شہریوں کی ذندگیوں کی حفاظت اور 24 بلین اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لئے تجاویز پیش کی ہیں۔
ان تجاویز میں فیڈرل ایکسائز ایکٹ شیڈیول 3 کے سیریل4 میں حاصل تمباکو پر ٹیکس کے استشنا کا خاتمہ، جبکہ تمباکو پر عائد ٹیکس سے حاصل آمدنی میں سے دو فیصد رقم کو صحت سہولت پروگرام اور تمباکو نوشی کی روک تھام بشمول دیگر وبائی امراض کے خاتمے کے پروگرام پر خرچ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

یقیناً یہ تمام اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن جب تک ان اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا عام عوام کے لئے یہ اقدامات اور قوانین سودمند ثابت نہیں ہو سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں