کرونا وائرس: پاکستانیو! گھبرانہ نہیں ہے

مصنف، سالار لطیف

پاکستان میں کرونا وائرس کی تاریخ کے دوران حکومت کی فیصلہ سازی کی انتہائی دلچسپ مثالیں سامنے آئی ہیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے خاتمے کو ایک ماہ مکمل ہو رہا ہے اور اس ایک ماہ کے دوران ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین میں حیرت انگیز حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 09 مئی 2020 کے دن کو پاکستان میں کرونا وائرس کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ اس دن سے متعلق سیاسی فیصلوں کے “آفٹر شاکس” تاحال محسوس کیئے جا سکتے ہیں کیونکہ یہ وہی دن تھا جب حکومت کی جانب سے ملک میں نافذ کردہ لاک ڈاؤن وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے اعلان کی روشنی میں ختم کیا گیا تھایا پھر ایسا کہہ لیں کہ نرم کیا گیا تھا۔ ویسے 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن کی نرمی کو تسلیم کرنا ہی ایک سوال ہے کہ کیا کرونا وائرس کے پیشِ نظر پاکستان میں واقعی لاک ڈاؤن سخت ہوا تھا جس میں نرمی لائی گئی ہے؟
تقریبن 48 دنوں بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس طویل مدت کے دوران میرے نزدیک سب سے کٹھن کام لاک ڈاؤن کی سختی کو تلاش کرنا تھا جو میں آخر تک نہیں کرسکا۔ یہ بات طے ہے کہ کرونا وائرس نے نہ صرف ملک میں شعبہِ صحت میں ہنگامی حالات کا نفاذ کیا ہے لیکن پاکستانی عوام پر اس کی ایک عنایت یہ بھی ہے کہ اس مہلک وائرس نے وفاقی حکومت کی فیصلہ سازی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے جس کے بعد اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ عمران خان کی انتخابات سے قبل اپنی ٹیم کا گھمنڈ مٹی میں مل چکا ہے اور ان کی ٹیم کس حد تک مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے؟ اس بات کا اندازہ تو تب ہی لگ چکا تھا جب اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے فارغ کردیا گیا تھا لیکن اگر تھوڑی بہت گنجائش موجود تھی تو وہ کرونا وائرس نے پوری کرلی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی تاریخ میں یہ لکھا جائے گا کہ مہلک وبا نے جہاں دنیا بھر کے تمام تر ممالک کی معیشت کو زمین بوس کرلیا تھا اور دنیا بھر نے سماجی دوری کے ہتھیار سے اس وبا کے ساتھ جنگ لڑنے کے لئے مکمل طور پر نقل و حرکت پر پابندی عائد کررکھی تھی، دنیا ساکن ہوکررہ گئی تھی وہاں پاکستان میں 48 دنوں کے طویل لیکن برائے نام لاک ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت ہی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ملک میں لاک ڈاؤن نافذ ہے بھی یا نہیں؟ انسدادِ کرونا وائرس سے متعلق ہمارے یہاں انتہائی غیرمہذب اور کمزور ترین حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جس کے تحت اس وبا نے پاکستان میں انتہائی کم دورانیئے میں مضبوطی سے اپنے قدم جمائے ہیں۔
لاک ڈاؤن کے دوران وفاقی حکومت یہ تجربہ کرتی رہی کہ لاک ڈاؤن کھولا جائے یا نہیں جس کی روشنی میں جب غریب دیہاڑی دار کا یہ سوچنے کے بغیر خیال کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کھولا گیا کہ ملک میں تیزی سے پھیلتا ہوا کرونا وائرس اگر اس بچارے دیہاڑی دار کو چھوڑے گا تب ہی اس کی معاشی حالات پر سوچ کر اس سے متعلق فیصلہ سازی کرنی پڑے گی۔ یہ بھی وفاقی حکومت کی انتہائی مہارت سے بھرپور کم عقلی تھی کہ جس صوبے نے سب سے پہلے کرونا وائرس کے خلاف مضبوط فیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا، اسی صوبے کو سیاست چمکانے کے لئے مسلسل نشانہ بنایا گیا اور بیان بازی کرنے پر کبھی کپتان نے اپنے کھلاڑیوں کو یہ ہدایت نہیں دی کہ یہ مشکل وقت اس بات کی تقاضا کرتا ہے کہ سب ایک ہو کر اس وبا کا مقابلہ کریں۔کچھ روز تو ایسے بھی آئے جب پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں لاک ڈاؤن سخت کیا جا رہا تھا تو عین اسی وقت سندھ میں صوبائی حکومت کو لاک ڈاؤن بڑھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وفاقی حکومت کا یہ رویا اس بات کو ماننے کے لئے کافی تھا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے وہ کس حد تک سنجیدہ ہے؟
پہلے محض ایک ہی اصطلاح کے چرچے سرِبازار سنائی دیتے تھے کہ “گھبرانہ نہیں ہے” لیکن کرونا وائرس کے دوران ہمیں ایک اور اصطلاح کا اضافہ ہوتے دکھائی دیا اور وہ ہے “دنیا کی بنسبت پاکستان میں کیسز کی تعداد کم ہے۔” لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی ٹیم کی میڈیا سے گفتگو کا رکارڈ دیکھ لیں، میں دعویٰ سے کہتا ہوں یہ جملا آپ کو پارٹی پالیسی کی مانند ہر رکن کی زبان کی زینت بنا دکھائی دے گا جس سے ظاہری طور پر یہ لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کرونا وائرس کی شدت کو تسلیم کرنے کے لئے ہی تیار نہیں تھی۔ اس کے دو اسباب ہو سکتے ہیں۔ یا تو حکومت اس خوشفہمی کا شکار تھی کہ پاکستان کا نظامِ صحت دنیا بھر کا مانا ہوا نظامِ صحت ہے۔ اگر ایسا ہے تو بھی حکومت کی یہ خام خیالی تھی اور اگر ایسا نہیں تھا تو دوسری صورت میں شاید وفاقی حکومت دانستہ طور پر بھی اس وائرس کی شدت کو نظرانداز کرتی ہو کیونکہ انہوں نے یہ تسلیم کرلیا ہوگا کہ ہمارا نظامِ صحت اس وبا کا بوجھ اٹھا ہی نہیں سکے گا۔ اگر ایسا ہے تو بھی حکومت کی دوراندیشی اور فیصلہ سازی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اب لاک ڈاؤن ایک ماضی کا قصہ بن گیا ہے۔ اس کے خاتمے سے قوم کو جو نقصان ہونا تھا اس کا آغاز ہو چکا ہے جس سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت حسبِ معمول ایک جامع پروگرام لائی ہے اور وہ یہ کہ صرف عوام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اپنانے کا کہتے ہوئے لاک ڈاؤن کھول دیا گیاہے اور عین اس سے ایک روز قبل بلوچستان میں صوبائی ڈائریکٹر جنرل صحت سلیم ابڑو نے خبردار کیا تھاکہ صوبے میں 11 جولائی تک کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد گیارہ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور اگر اسی رفتار سے وائرس کا پھیلاؤ جاری رہا تو دسمبر تک صرف بلوچستان میں 95 لاکھ افراد اس وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو صوبے میں کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پر بین الضلعی نقل و حرکت پر مکمل پابندی کی تجویز بھی دے رکھی تھی جس کے باوجود بھی شاہ سےزیادہ شاہ کے وفادار وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کے فیصلوں پر ایمان لاتے ہوئے “سمارٹ لاک ڈاؤن” کو ترجیح دی جائے گی۔
عید کے موقع پر ملک میں ریل کی خدمات کو کھولنے کا فیصلہ بھی کیا گیاجس سے ہزاروں افراد ملک کے مختلف علاقوں میں اس وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنے۔ کرونا وائرس نے پاکستان میں لاک ڈاؤن کو کچھ اس طرح رخصت کیا کہ آخری دن یعنی 8 مئی کو ملک میں سب سے زیادہ یومیہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے خاتمے یعنی 9 مئی تک ملک میں کرونا وائرس کے 28 ہزار 795 مصدقہ کیسز تھے جبکہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے ایک ماہ بعد 76 ہزار 842 کیسز کے اضافے کے ساتھ یہی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار 637 پر پہنچ گئی ہے۔ آیئے! ملک میں قیادت کے سنگین بحران کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت کرونا وائرس سے بچاؤ کی ناکام کوشش کی تیاری کریں اور دعا کریں خدا دنیا سے اس کرونا وائرس اور اس عرضِ وطن کو قیادت کے بحران سے چھٹکارہ عطا کرے۔ (آمین)

کرونا وائرس: پاکستانیو! گھبرانہ نہیں ہے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں