علی محمد اڈیرائی، لازوال فن کی بسترِ مرگ پر بے بسی

مصنف، منظور سولنگی (نامہ نگار، یونائیٹڈ ٹی وی ملیر)

یہ گلی سندھ کے اس سریلے عوامی شاعر کے گھر تک جاتی ہے جس کی شاعری جب سندھ کے شہروں، گوٹھوں، صحراؤں حتیٰ کہ جنگلات میں بھی گونجتی تھی تو راہگیر بھی گیت دل جمی کے ساتھ سنتے اور گنگناتے تھے۔ ان کی شاعری کے الفاظ اور گہرائی سے درخت بھی گونج اٹھتے۔ ان کی شاعری گانے کے لیے مشہور گلوکار ان کے گھر کے سامنے قطار کی شکل میں کھڑے ہوتے تھے۔ کئی گلوکاروں کا کہنا تھا کہ اگر علی محمد اڈيرائی کا ایک گیت بھی مل جائے تو ان کی قسمت چمک اٹھے گی۔
اپنے وقت کا یہ بے تاج بادشاہ عوامی شاعر علی محمد اڈیرائی آج حکومت سمیت سماج اور بےوفا دوستوں کی جانب سے نظرانداز ہونے کے باعث غربت کی لپیٹ میں آکر گھارو کے بابا جمیل شاہ محلے میں ایک تنگ گھر میں اپنی اہلیہ اور 8 چھوٹے بچوں کے ساتھ زندگی کے کٹھن ایام گزار رہے ہیں۔ کس کو پتہ تھا کہ درگاہ اڈیرو لعل کے قریب 1967 میں جنم لینے والے علی محمد کھٹی پرائمری پاس ہونے کے باوجود سندھ کے بڑے اور مشہور عوامی شاعر ہو کر شہرت کی بلندیوں کو چھو لیں گے؟

1986 میں جب وہ اپنے جوبن تک پہنچے تو مجازی عشق میں مبتلا ہوکر شاعری شروع کر دی اور اب تک پانچ ہزار سے زائد گیت لکھ کر ایک رکارڈ قائم کیا ہے۔ علی محمد اڈيرائی 2005 میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے اور ان کے آٹھ بچے ہیں جن میں دو بیٹے 9 سالہ احسان اللہ اور 7 سالہ اسداللہ اور 6 بیٹیاں ہیں۔ اس عوامی شاعر کا عروج 1994 میں اس وقت زوال کی طرف گامزن ہوا جب ان کی گاڑی کا خوفناک حادثہ پيش آيا جس کے بعد ان سے قسمت کی دیوی ہمیشہ کے لیے جيسے روٹھ ہی گئی۔ ان کی مالی حالات اور جسمانی حالت دن بہ دن خراب ہوتی چلی گئی۔
علی محمد اڈیرائی کو اڈیرو لال سے گھارو آئے 15 سال بیت گئے۔ اپنے وقت کے بے تاج بادشاہ علی محمد اڈیرائی اس وقت انتہائی بیماری اور غربت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار ہیں جنہیں فوری مالی امداد اور علاج کی اشد ضرورت ہے جبکہ محکمہِ ثقافت صرف سالانہ 30 ہزار روپے وظیفہ دیتا ہے جس سے ان کا گزارہ مشکل اور ناممکن تو پھر علاج کیسے ہوپائے گا؟ انہوں نے آبدیدہ آنکھوں سے حکومتِ سندھ، محکمہِ ثقافت اور تمام مخیر حضرات سے مالی اور اخلاقی امداد کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں