اردو سے سندھی شاعری تک

مصنف، حسن نثار

آج کل خط کا آنا یوں ہی ہے جیسے کوئی گھوڑے پر بیٹھ کر ملنے آ جائے لیکن میرے ساتھ یہ خوب صورت واردات ہوتی رہتی ہے۔ خط لکھنے والے لوگوں میں اسلم گورداسپوری نمایاں ہیں جو بہت عمدہ شاعر اور کبھی بہت ہی شاندار جاندار سیاسی ورکر بھی تھے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ایم پی اے بھی رہے۔ پھر اللہ بھلا کرے جنرل ضیاء الحق کا جس نے سیاسی ورکر ہی ختم کردیئے اور انہیں ری پلیس کیا سیاسی ری ٹیلرز نے جن کے لئے سیاست عبادت نہیں تجارت اور کموڈٹی تھی کیونکہ نواز شریف کے نیچے یہی کچھ اگ سکتا تھا اور ضیاء الحق بھی یہی کچھ چاہتا تھا۔
اسلم گورداسپوری کبھی کبھی اپنی شاعری سے نوازتے رہتے ہیں۔ میں آج کل سندھی شاعری کے تراجم سے لطف اندوز ہو رہا ہوں کہ اسلم صاحب کی مخصوص لہجے والی غزل لفافہ پہن کر پہنچ گئی۔ پہلے یہ غزل پھر انتہائی حسین سندھی شاعری کے کچھ تراجم جو مسحور اور مخمور کئے دیتے ہیں۔
اینٹ سے اینٹ بجا دو مرا دم گھٹتا ہے،
اب تو اک حشر اٹھا دو مرا دم گھٹتا ہے،
ان سے ممکن ہی نہیں تازہ ہوائوں کا ورودان،
فصیلوں کو گرا دو مرا دم گھٹتا ہے،
میں کہ صدیوں سے ہوں اس طوقِ غلامی کا اسیر،
مجھ کو آزاد کرا دو مرا دم گھٹتا ہے،
میری گردن پہ ہے صدیوں سے عدو کا پائوں،
میری گردن کو چھڑا دو مرا دم گھٹتا ہے،
دیکھ لیں لوگ کہ گورے ہیں یا کالے،
وحشی! میری تصویر دکھا دو مرا دم گھٹتا ہے،
میری انجیل کے اوراق میں تدفین کرو،
میری تربت پہ لکھا دو مرا دم گھٹتا ہے،
ایسا مسکن کہ جہاں سانس ہو لینا مشکل،
ایسے مسکن کو جلا دو مرا دم گھٹتا ہے،
اس سے زیادہ تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا ،
اسلمؔ ساری دنیا کو بتا دو مرا دم گھٹتا ہے۔
قارئین!اس غزل کو پڑھتے ہوئے اس ’’کالے‘‘ کو دھیان میں رکھیے جو امریکہ میں پولیس تشدد کے نتیجہ میں مارا گیا۔ اس کی گردن پر ہٹے کٹے گورے پولیس اہلکار کا گھٹنا تھا جس پر مظلوم کے آخری الفاظ بھی یہی تھے’’میرا دم گھٹ رہا ہے‘‘۔ کروڑوں انسانوں کے دم بغیر کسی گھٹنے کے بھی گھٹ رہے ہیں۔ انسان سے انسان کی نجات کا سفر جاری ہے جسے کبھی نہ کبھی اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہے کہ یہی مشیت ایزدی ہے۔
اور اب اپنی سندھی شاعری۔ کلام شیخ ایاز مترجم بادل۔”قوم کا کرداراک بےمعنی لفظ ہے۔ جس قوم نے روسو پیدا کیاوہی الجیریا میں قتل عام بھی کرسکتی ہے‘‘۔
شاعر پھر شیخ ایاز لیکن ترجمہ فہمیدہ ریاض کا ہے ۔
دھرتی کیا کیا دان کر گئی دکھ دے کر انسان کر گئی،
آئی تیری یاد تو پیتم! سولی کو آسان کرگئی،
طوفانوں سے کھیلتی کشتی ساحل کو میدان کرگئی،
ویرانی نے پیاس ابھاری کفر کو بھی ایمان کر گئی،
ایسی مدھر ایاز پلائےگھونٹ گھونٹ پہچان کر گئی۔
شاعر کا نام ہے تاجل بیوس، ترجمہ طارق نعیم کا۔’’تم بے شک میرے بدن پر بندوق چلائویہ میری شاعری تمہاری بندوق کی گولی کو پھولاور تلوار کو رابیل کی ٹہنی بنا دے گی”۔
شاعر کا نام آدرش اور مترجم شفقت سومرو۔
رات بھی ایک درخت ہےجس میں کئی شاخیں ہوتی ہیں،
کسی شاخ میں خواب ہوتے ہیں کسی شاخ میں پرندے ہوتے ہیں،
کسی شاخ میں آہیں ہوتی ہیں کسی شاخ میں قہقہے ہوتے ہیں،
کسی شاخ میں آنسو ہوتے ہیں کسی شاخ میں اندھیرا ہوتا ہے،
اور آخری شاخ میں صبح چھپی ہوتی ہے،
جس کے انتظار میں ایک آدمی اسی شاخ پر خود کشی کرتا ہے۔
اب آدرش کی اک اور نظم۔
وہ لوکل ٹرین میں سفر کرتا ہے،
اور قریب بیٹھے آدمی کا اخبار پڑھتا ہے،
وہ سینما کی سکینڈ کلاس میں بیٹھ کرانگریزی فلمیں دیکھا کرتا ہے،
وہ رات کو رات گئے تک جاسوسی ناول پڑھتا ہے،
وہ بس سٹاپ پر کھڑی آوارہ عورتوں کو پھانستا ہے،
وہ زندگی سے تنگ ہےاور خودکشی کی باتیں کیا کرتا ہے،
وہ قبر سے باہر ہےلیکن مرا ہوا ہےاور تیسری دنیا کا باشندہ ہے۔
آدرش کی ہی اک اور مختصر نظم ۔’’تاروں کا میلہ ہےچاند پھر بھی اکیلا ہے’’۔ “محبت” کے عنوان سے اک اور نظم۔’’ایک لڑکی پھول لے کر آتی ہےخواب لے کر آتی ہےگیت لے کر آتی ہےجدائی لے کر آتی ہے۔‘‘

“یہ تحریر بشکریہ روزنامہ جنگ شایع کی جا رہی ہے”

اپنا تبصرہ بھیجیں