ادب اور سیاست

مصنف، امانت علی شیخ

ایک زمانہ ہوتا تھا جب ادب اور سیاست ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہوا کرتے تھے۔ ہر سیاسی کارکن ادب پڑھتا تھا اور ہر شاعر اور ادیب سیاست سے جڑا ہوتا تھا ۔ ایسا سمجھیں کہ ادب اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ تھا۔ ادب اور سیاست کے اس سنگم نے دونوں کو بہت بلند مقام دیا سیاست سے ادب میں ترقی پسندی اور روشن خیالی کا ایک دور آیا ۔ اس زمانے کا ادب ہمیں آج کے ادب کے مقابلے میں فکری طور پر زیادہ مبودط ملتا ہے جس کا سہرا سیاست کو جاتا ہے اور سیاست میں ادب کا کردار یہ رہا کہ اس نے سیاست اور عوام کو جوڑا۔ اس زمانے میں سیاست کو عبادت سمجھا جاتا تھا ۔ سیاست نوجوانوں کے لیئے رومانس ہوا کرتی تھی اور یہ سہرا ادب کو جاتا ہے۔
اس دور کے شواہد 1900ع کی پہلی دہائی سے ساتویں دہائی تک یعنی بھٹو کے دور تک ملتا ہے۔ یہ سیاسی حوالے سے بھی شاندار دور تھا۔ اسی زمانے میں ہمیں جناح اور اقبال جیسے سیاسی رہنما ملے جنہوں نے روشن خیال اور فلاحی پاکستان کا خواب دیکھا اور اس کی تکمیل بھی کی۔ برِصغیر کے جتنے بھی بڑے سیاسی رہنما تھے وہ جناح، اقبال، گاندھی، نہرو، جی ایم سید، حیدر بخش جتوئی اور رسول بخش پلیجو صاحب ہوں ان کاتعلق اسی دور سے ہے۔ اس دور نے ادب کی دنیا میں بھی ہمیں بڑے نام دیئے۔ یہ ہی وہ دور ہے جس میں ہمیں فیض احمد فیض، شیخ ایاز، حبیب جالب اور احمد فراز جیسے شعراء ملتے ہیں جن کی شاعری میں موجود فکر آج بھی ہمارے دلوں میں آگ بھڑکا دیتا ہے۔ اگر ہم مجموعی طور پر اس خطے کی بات کریں تو معلوم ہوگا کہ ساحر لدھیانوی، کیفِ اعظمی، گلزار، جاوید اختر، اور دوسرے بڑے شعراء بھی ہمیں اسی دور میں ملتے ہیں۔
بڑے سیاسی رہنما اور ادیب اور شاعر پیدا کرنے کا اس زمانے کو کوئی جادو نہیں تھا جس کے ذریعے وہ ان کو پیدا کرتا تھا۔ یہ کرم نوازی سیاست اور ادب کے سنگم کی ہے۔ یہ جادو فکری ادب اور عوامی سیاست میں تھا لیکن بدقسمتی سے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے زمانے سے سیاست اور ادب میں دوریاں پیدا کی گئیں کیونکہ اس سے صاحبِ اقتدار حلقوں کو بڑا خطرا تھا ۔ جب سیاست اور ادب جڑتا ہے تو ایک مزاحمتی دور شروع ہوتا ہے جس کو یہ کبھی ہونے نہیں دیں گے۔ ان کی یہ سازش بدستور جاری ہے۔
سیاست اور ادب کے سنگم کی اس روایت کو پچھلے ایک دو سال سے کچھ دوست خاص طور پر عوامی ورکرز پارٹی کے دوست ایک بار پھر ابھار رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں میں ہمیں شاھ لطیف، شیخ ایاز اور فیض احمد فیض کے کتاب دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ہمیں اسٹڈی سرکلز نظر آ رہے ہیں جہاں پر ہمارے نوجوان ساتھی ادب اور سیاست پر بات کر رہے ہیں اور دونوں کے اثرات بھی قبول کر رہے ہیں۔
ہمیں کامریڈ بخشل تھلہو اور شفقت قادری کے مضامین میں غالب اور فیض کے اشعار نظر آ رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمیں سندھ میں نظر آ رہا ہے باقی صوبوں میں کم نظر آ رہا ہے۔ البتہ دوسرے صوبوں میں سیاسی مسائل پر اسٹڈی سرکلز ہوتے ہیں ۔ عوامی ورکرز پارٹی کی قیادت کو چاہئے کہ وہ بقیہ صوبوں کے ساتھیوں کو بھی کہیں کہ وہ بھی صوبہ سندھ کی طرح ادب کو بھی اپنی سیاست کا حصہ بنائیں تاکہ پاکستان میں ایک مزاحمتی ماحول پیدا ہو جو ادب اور سیاست کے سنگم سے ہی ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں