نظامِ تقسیم: قابلیت و اہلیت یا برابری کی بنیاد پر حقوق کا تحفظ

نظامِ تقسیم جس کو کوٹہ سسٹم بھی کہا جاتا ہے، سے مراد بغیر رنگ، نسل زبان اور قومیت کی تفریق کے تعلیم اور ملازمتوں کے برابر مواقع مہیا کرنا ہے۔ پاکستان کے چند حلقوں میں اس نظام کے خلاف شدید خدشات اور تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل کہ اس نظام کا جائزہ لیا جائے، کوٹہ سسٹم کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظام امریکا میں 1961 ، آسٹریلیا میں 1986 ، فرانس میں 1987، جنوبی افریقا میں 1994 اور جرمنی میں 2006 میں نافذ ہوا جبکہ سب سے پہلے کوٹہ انگلستان میں 1896، متحدہ ہندستان میں 1929 میں اور پاکستان میں آزادی کے بعد 1948 میں نافذ کیا گیا۔ کسی نہ کسی صورت کوٹہ سسٹم دنیا کے ہر ملک میں رائج ہے۔ 1929 میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے دہلی میں ہونے والے اجلاس میں 14 نقاط پیش کیے جن میں سے چار نقاط کا بلواسطہ تعلق کوٹہ سسٹم سے تھا۔
نقطہ نمبر 3 میں مسلمانوں کی ریاستی اور وفاقی اسیمبلیوں میں مناسب نمائندگی۔
نقطہ نمبر 4 میں وفاقی قانون ساز اداروں میں مسلمانوں کی ایک تہائی نمائندگی۔
نقطہ نمبر 11 میں مسلمانوں کی لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں نشستیں مقرر کرنا۔
نقطہ نمبر 12 میں کسی بھی ریاستی یا وفاقی کابینہ میں مسلمانوں کی ایک تہائی نمائندگی۔
بعد ازاں ان نقاط پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے تحریکِ آزادی چلائی گئی۔ پاکستان بننے اور قائدِاعظم کی وفات کے بعد 1948 میں پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے کوٹہ سسٹم کو پاکستان میں نافذ کیا جس کے مطابق بنگال کے لیے 56.75 فیصد آبادی کے باوجود 42 فیصد نشستیں مقرر کی گئی، سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کی 18 فیصد آبادی کے لیے مشترکہ طور پر 14.05 فیصد نشستیں مقرر کی گئیں پنجاب کی 28 فیصد آبادی کے لیئے 24 فیصد نشستیں مقرر کی گئیں جبکہ متوقع مہاجرین کے لیے 15 فیصد نشستیں اور کراچی کی 1.2 فیصد آبادی کے لیئے 2 فیصد نشستیں مقرر کی گئیں۔
بنگال اور سندھ کی جانب سے اس تقسیمی نظام کو غیرمنصفانہ قرار دیا گیا کیوں کہ آزادی سے پہلے اردو بولنے والوں کی اک کثیر تعداد سرکاری ملازمتوں سے وابسطہ تھی اور آزادی کے بعد ان میں سے اکثریت پاکستان سول سروسز میں آ گئے اور دوسرا یہ کہ 15 فیصد نشستیں مقرر کرنا اس لحاظ سے بھی نا مناسب تھا کہ اتنی کثیر تعداد میں حجرت متوقع نہیں تھی اور یہ اقدام محض مہاجریں کا تسلط قائم کرنے کے لیے کیا گیا بعد ازاں یہ خدشات قدرِ درست ثابت ہوئے۔
چند ایک تبدیلیوں کے ساتھ وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی سے لیکر جنرل ایوب خان تک اور جنرل ایوب سے جنرل یحیٰ تک ہر دورِ حکومت میں کوٹہ سسٹم رائج رہا۔ بنگال کی علیحدگی اور خیبرپختونخواہ, سندھ اور بلوچستان میں انتشار اور وفاق کے خلاف تحریکوں کو غیر موثر کرنے کے لئے اور چند طبقات کے تلسط کو ختم یا کم کرنے کے لیے 1973 کے آئین میں علاقائی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے وفاقی کوٹہ سسٹم مقرر کیا گیا۔ اس کوٹہ سسٹم کے مطابق تمام صوبوں، وفاقی اختیار میں آنے والے علاقوں میں آبادی کے برابر تناسب سے روزگار/ملازمتوں کے مواقع اور تعلیمی اداروں میں داخلے دیے جانے تھے بعد ازاں اسکالرشپس یعنی تعلیمی اخراجات کی شق بھی شامل کر لی گئی۔ اس کوٹہ سسٹم کی جو قابلِ غو ر بات ہے وہ یہ ہے کہ جس علاقے کی آبادی زیادہ ہوگی اس علاقے کو کوٹہ میں سے زیادہ حصہ ملے گا لیکن سندھ میں اس کے برعکس جنرل یحیٰ خان کے دورِ حکومت میں سندھ کے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور گورنر جنرل رخمن گل کی سفارش پر سندھ کو 1969 میں دیہی اور شہری بنیادوں پر 60-40 شرح سے تقسیم کر دیا گیا۔ جبکہ اس وقت شہری علاقوں کی آبادی 29 فیصد اور دیہی علائقوں کی آبادی 71 فیصد تھی۔

اس موضوع پر پاکستان کے متعلق لکھے کچھ تحقیقی مقالوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ چارلس کینیڈی نے 2011 میں اپنے مقالے Politics of Ethnic Preference in Pakistan میں لکھا کہ “پاکستان میں کوٹہ سسٹم نافذ کرنے کا مقصد پسے ہوئے اور کم اثر و رسوخ والے طبقے کو قومی دہارے میں لانا ہے۔ MQM نے لسانی تعصب کی بنیاد پر اس نظام کی شدید مخالفت کی اور کراچی اور حیدرآباد میں لسانی سیاست اور فسادات کروا کر ملکی معیشت کو شدید نقصان پہچایا اور شہری علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرلیا”۔

نصیر میمن نے 2016 میں اک اخباری مقالےThe Qouta Controversy میں لکھا کہ” کوٹہ سسٹم بیشتر ممالک میں رائج ہے اور یہ نظام پسے ہوئے طبقے کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مقامی لوگوں کو بھی برابری کی بنیاد پر تعلیم، صحت اورملازمتوں کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس نظام میں خامیاں ہونے کے باوجود اپنے تعین کردہ مقاصد میں کامیاب رہا ہے۔”
سبینہ خان نے 2014 میں اپنے تحقیقی مقالے Ethnic Federalism میں بیان کیا کہ “یہ نظام اردو بولنے والوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے کیوں کہ ان کے خیال میں اس نظام کے ذریعے سندھیوں کو اردو بولنے والوں پر مسلط کرنا ہے جبکہ سندھی آبادی اس اقدام کو احسن اور مساوی سمجھتی ہے جو ان کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے”۔
محمد وسیم نے 2010 اور 1997 میں اپنے مقالوں Affirmative Actions in Pakistan اور Ethnic Conflicts in Pakistan میں لکھا کہ “لیاقت علی خان سے یحیٰ خان تک اور ذولفقار علی بھٹو سے ضیاء اور نواز شریف تک ہر حکومت اور حاکم نے کوشش کی کہ معاشی طور پر پسماندہ اور پسے ہوئے طبقے کو معاشی دھارے میں لانے کی کوشش کی مگر اک غلطی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر سب سے ہوئی وہ یہ تھی کہ اپنے ووٹ بنک اور اقتدار کو طول دینے کے لیئے مخصوص قومیت کو فوقیت دینا ۔ جبکہ 1973 کے کوٹہ سسٹم نےآئینی طور پر سب کے حقوق کو برابر تحفظ دیا اور لسانی اور قومیت کے بنیاد کو سرے سے ختم کر دیا”۔
واجد علی رانا نے 2017 میں اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا کہ “ذوالفقار علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم کو محض ایک سیاسی چال کے طور پر استعمال کیا جسکا مقصد سندھیوں کو تعلیمی اداروں اور روزگار کے مواقع ترجیحاتی بنیادوں پر دے کر سندھی ووٹ بنک مضبوط کرنا تھا”۔
نسرین اختر نے 2013 میں تحقیقی مقالے Ethnic Politics in Pakistan میں لکھا “ہر حکومت کسی مخصوص طبقے کو استعمال کر کے اپنے دورِ حکومت کو طول دینے کی کوشش کرتی رہی۔ لیاقت علی خان نے اس ضمن میں مہاجرین کو استعمال کیا اور ایوب خان نے پٹھان فوقیت پالیسیز بنائی جبکہ جنرل ضیاء اور نواز شریف نے پنجابی اور مہاجر جذبات کو اسعتمال کیا اور اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے سندھی قوم کے حق میں کوٹہ سسٹم بنایا”۔

ان مقالوں کا ایک مختصر خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔ اول یہ کہ کوٹہ ہر قسم کی قوم قومیت یا لسانیت سے آزاد علاقائی بنیاد پر مختص کیا گیا۔ باالفرض، دیہی سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والا کوئی بھی فرد چاہے وہ اردو سرائیکی بلوچی یا سندھی بولنے والا ہو وہ دیہی سندھ کے کوٹہ پہ ملازمت یا اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلے کے لیے اہل ہے۔ دوئم یہ کہ کوئی سیاسی جماعت تا حیات حکومت میں نہیں رہ سکتی اس لیے یہ کہنا کہ کوٹہ سیاسی مقاصد کے لیے بنایا گیا بھی درست نہ ہوگا۔ تیسرا یہ کہ حکمران طبقے کے قومیت کے اثرورسوخ سے دور رکھنےوالے نظریے کی بنیاد پر علاقائی کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا۔ چوتھا اس نظامِ تقسیم سے جو علاقے پسماندہ ہیں ان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی برابری کی بنیاد پر ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیئے جائیں اور سب سے اہم کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت رخمن گل کی سفارش کردہ جنرل یحیٰ کی دیہی اور شہری تفریق کو ختم کر دیتے تو اردو بولنے والی آبادی مزید تحفظات کا اظہار اور مزاحمت کرتی اور اس اقدام کو اردو بولنے والوں کے حقوق کو غصب کرنے کے مترادف سمجھتے جو کہ اُس وقت کے ملکی حالات کی وجہ سے غیر موزوں تھا۔
ان محققین اور مفکرین کے مقالوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنے اصل سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا کوٹہ سسٹم یا نظامِ تقسیم واقعی برابری کی بنیاد پر حقوق کا تحفظ کرتا ہے یا یہ اہلیت اور قابلیت پر ایک بدنما داغ ہے؟ مندرجہ بالا باتوں سے یہ تاثر تو کم ہوجاتا ہے کہ کوٹہ سسٹم اہلیت یا قابلیت کے منافی ہے اور یہ نظام پسے ہوئے طبقات کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔ اس کوٹہ سسٹم کا آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ نفع پنجاب کو ہوتا ہے اور ترجیحات کی بنیاد پہ 4 فیصد اردو بولنے والی آبادی کو تو آخر صرف دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمت پیشہ افراد اور طلبہ کو ہی کیوں کوٹہ کی پیداوار، نااہل اور Quota Recruits کا طعنہ دیا جاتا ہے؟
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے 1973 کے کوٹہ سسٹم کی وجہ سے ملازمتوں اور تعلیمی توازن قدرِ کم ہی صحیح مخصوص گروہ سے ان طبقات کی طرف منتقل ہوا اور چند مسلط شدہ لسانی طبقوں کا تسلط ٹوٹ گیا جو اس نظام کی عدم موجودگی میں ہرگز ممکن نہیں تھا اور اس طعنہ زنی کی دوسری وجہ عدم برداشت عدم تحفظ اور غلط فہمی کی بنیاد پر مسلسل تحقیر ہے۔

جاوید حسین موریجو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں