آل پارٹیز کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری کا مثبت کردار‎

کل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہونے والی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں سب سے کم عمر لیکن سب سے قدآور شخصیت بلاول بھٹو زرداری کی تھی۔
بلاول بھٹو زرداری نے بیک وقت قومی اسمبلی (جہاں انتہائی اہم سیشن یعنی بجٹ سیشن چل رہا تھا) اور اپوزیشن پارٹیوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی، جب نوجوان بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شریک تھے تو آل پارٹیز کانفرنس نامکمل دکھائی دے رہی تھی، بعد ازاں جب بلاول بھٹو زرداری آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوئے تو قومی اسمبلی کا ہال نوجوان بلاول بھٹو زرداری کے بغیر سونا سونا اور ویران لگ رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے بلاول بھٹو زرداری کے بغیر قومی اسمبلی کا ہال اور آل پارٹیز کانفرنس کی روشنیاں جیسی مدھم کردی گئی ہوں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے بعد جب بلاول بھٹو زرداری تشریف لائے تو اے پی سی شروع ہو چکی تھی، بلاول بھٹو زرداری کے آنے پر جیسے اے پی ایس میں جان آگئی، اے پی سی کا محور صرف اور صرف بلاول بھٹو زرداری تھا، ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے کم از کم دو مواقع پر مولانا فضل الرحمان جو اے پی سی کی میزبانی کررہے تھے کے سامنے آگئے۔

ایک موقع پر جب مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن کی طرف جائیں گے، مارشل لاء لگ گیا تو اس کا مقابلہ کریں گے۔

اس پر نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جواب میں کہا میں نانا، دو ماموں اور والدہ گنوا چکا ہوں، قوم کا بوجھ میرے کندھوں پر ہے، پارلیمنٹ کسی صورت ڈی ریل نہیں ہونے دوں گا۔

مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان تکرار کم و بیش 45 منٹ تک جاری رہی۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ایک رہنما نے مداخلت کر کے بیچ بچاؤ کرایا، اے این پی کے رہنما نے کہا ہم مشترکہ گراؤنڈز پر بات کرتے ہیں، اور اگر یہ معاملہ یہیں ختم ہو گیا تو لوگ اپوزیشن کی ناکامی پر شادیانے بجائیں گے۔

دوسری مرتبہ جب اے پی سی کے میزبان مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ عمران خان نے صحابہ کی توہین کی، جس کا ذکر بھی اعلامیے میں کیا جائے۔
اس پر بھی اے پی سی میں موجود سینئر سیاست دان خاموش رہے لیکن نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرے سیاسی مخالفین ہو یا میرے ہم خیال جماعتیں لیکن مذہبی کارڈ چاہے وہ نواز شریف کے خلاف ہو یا عمران خان کے، کسی کے خلاف بھی مذہبی کارڈ کا استعمال قبول نہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کے ‏بات کرنےکا انداز اور الفاظ کا چناؤ سوچ اور تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے
دوران گفتگو ایک دوسرے کو دیا جانے والا احترم پرورش اور تربیت کی عکاسی کرتاہے
بول چال اور لہجہ شخصیت کااصل ترجمان اور تعارف ہوتاہے
بیبی شہیدکی روح کو آج یقیناََسکون ملاہوگا۔

تحریر: رب نواز بلوچ

Twitter:@rabnbaloch

اپنا تبصرہ بھیجیں