کورونا وائرس کے خلاف چین کے قابلِ تقلید اقدامات

مصنف، شاہد افراز

ناول کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ نے اس وقت ’’عالمگیر وبا‘‘ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ عالمی سطح پر صحت عامہ کے تحفظ کے حوالے سے اسے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ چین سمیت دنیا کے ایک سو چار ممالک اور خطوں میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ نو ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بالخصوص اگر یورپی ممالک کی بات کی جائے تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ تمام تر طبی وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کے باجود کورونا وائرس ان کےلیے ایک ڈرؤانا خواب ثابت ہوگا۔
اٹلی، چین کے بعد دوسرا ایسا ملک ہے جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور اطالوی حکام کے مطابق یہ تعداد نو ہزار سے زائد ہے، جبکہ ساڑھے چار سو سے زائد افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں۔ اسی طرح جرمنی، فرانس، اسپین سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی کورونا وائرس عوام کو شدید تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے اور چند اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ کئی امریکی شہروں میں بھی کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ایشیائی ممالک بالخصوص جنوبی کوریا، جاپان میں صورتحال بہت پیچیدہ ہے، جبکہ پاکستان میں بھی مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ باعث تشویش ہے۔ اسی طرح خلیجی ممالک میں بھی کورونا وائرس کےخطرے کے باعث نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے اور تیل کی دولت سے مالامال یہ خطہ اقتصادی لحاظ سے اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اس عالمگیر وبا کی روک تھام اور کنٹرول کیسے ممکن ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اس وقت ہر ایک کے ذہن میں آتا ہے۔ اگر حقائق کے اعتبار سے دیکھیں تو چین کا کامیاب ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ بروقت اور ٹھوس اقدامات سے کورونا وائرس سے تحفظ ممکن ہے۔ چین نے گزشتہ دو ڈھائی ماہ کے دوران جس قدر مضبوط اقدامات اور سخت فیصلے کیے، اس کے ثمرات اب سامنے آرہے ہیں۔ ناول کورونا وائرس سے چین کا صوبہ حوبے اور اس کا دارالحکومت ووہان سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ چین کے دیگر تمام علاقوں میں نئے کیسوں کا سلسلہ تھم چکا ہے جبکہ حوبے اور ووہان میں بھی نہ صرف نئے کیسوں کی تعداد بلکہ شرح اموات میں بھی نمایاں حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کلیدی مقامات پر نئے کیس اور شرح اموات ’’ڈبل ڈیجٹ‘‘ میں آرہے ہیں، جس سے اس امید کو تقویت ملتی ہے کہ وائرس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں میں صحت یابی کی شرح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ چین بھر میں متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 80 ہزار سے زائد تھی، جس میں سے تقریباً 60 ہزار افراد صحت یابی کے بعد اسپتالوں سے فارغ کردیے گئے ہیں۔ صحت یابی کی یہ شرح 70 فیصد سے زائد ہے، جو نہ صرف حوصلہ افزا بلکہ دنیا کےلیے امید کا واضح پیغام بھی ہے۔ اسی طرح علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی سے ایسے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جن کی جسمانی صورتحال آغاز میں انتہائی تشویشناک تھی۔ اسی باعث ووہان میں قائم کیے جانے والے عارضی اسپتالوں کو اب باضابطہ بند کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے، جو اس جنگ میں فتح کےلیے طلوع سحر کا اشارہ ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ خود وبا کی روک تھام و کنٹرول کی سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں اور ان سطروں کی تحریر کے وقت وہ خود ووہان شہر کے دورے پر ہیں، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے سکیں۔ چینی قیادت کی جانب سے انسداد وبا کےلیے جن اہم امور پر توجہ مرکوز کی گئی، ان میں مالیاتی، افرادی و تکنیکی وسائل کی بروقت دستیابی قابل ذکر ہیں۔ مثلاً ووہان شہر میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کےلیے الگ سے دو اسپتالوں کی دس روز کے اندر ایک ریکارڈ مدت میں تکمیل، چین بھر سے بیالیس ہزار سے زائد طبی عملے کی ووہان شہر اور صوبہ حوبے میں موجودگی، چینی حکام کی جانب سے فوری طور پر ساٹھ ہزار سے زائد مریضوں کی گنجائش والے عارضی اسپتالوں کا قیام، رضاکاروں کی انسداد وبا کی سرگرمیوں میں فعال شمولیت، عوام کی جانب سے حکومتی ہدایات اور رہنما اصولوں کی پیروی، یہ وہ تمام عناصر ہیں جن کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس کو شکست دینے کےلیے چینی حکومت اور عوام اعتماد کی مضبوطی، ایک دوسرے کی امداد، سائنسی پیمانے پر وبا کی روک تھام اور درست سمت میں اقدامات پر عمل پیرا ہیں۔
یہی نہیں بلکہ وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی سرگرمیوں میں کسی غفلت یا کوتاہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جارہا۔ ملک بھر میں متعدد اہل کاروں کا ناقص کارکردگی کی بنا پر احتساب کیا گیا ہے۔ مارچ کے اوائل تک وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی سرگرمیوں میں غفلت برتنے پر 654 افراد کو ذمے دار ٹھہرایا گیا اور 385 کیس فوری تحقیقات کے بعد نمٹا بھی دیے گئے۔ چینی حکومت کی جانب سے یہ پالیسی اپنائی گئی ہے کہ کوئی ایک بھی فرد یا گھرانہ نظر انداز نہ ہو اور متاثرہ افراد کی اسپتالوں تک رسائی کو ممکن بنانا حکام کا بنیادی فریضہ ہے۔
چین کے ان سخت گیر اقدامات کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کو انتہائی سست کردیا گیا اور دیگر ممالک کو تیاریوں کا وقت بھی مل گیا۔ اب عالمی ادارہ صحت بھی چین کی اس کامیاب پیش رفت کی روشنی میں کہہ رہا ہے کہ اگرچہ کووڈ۔19 عالمگیر وبا ضرور سہی لیکن تاریخ میں یہ وہ پہلی وبائی صورتحال ہوگی جس پر جلد ازجلد قابو پایا جاسکے گا۔
چین میں مثبت صورتحال کے بعد اس وقت معمولات زندگی تمام تر احتیاطی تدابیر کے تحت بتدریج بحال ہورہے ہیں۔ اقتصادی پیداواری سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ اکثر تعلیمی اداروں میں باضابطہ کلاسز کا آغاز کردیا گیا ہے۔ زرعی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ دفاتر میں لوگوں کی حاضری کی شرح بلند ہورہی ہے۔ مزدور اور کارکن روزگار پر واپس آ چکے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چینی قوم آزمائش کی اس گھڑی پر کامیابی سے پورا اتری ہے۔
اس وقت چین کی جانب سے کورونا وائرس سے متاثرہ کئی ممالک کو افرادی و تکنیکی وسائل کی فراہمی بھی جاری ہے، تاکہ عالمگیر سطح سے کورونا وائرس کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ چین نے ہمیشہ ایک عالمگیر ہم نصب سماج کی تشکیل کی حمایت کی ہے اور موجودہ صورتحال میں چین نے اپنے عمل سے واضح کردیا کہ وہ اقوام جو کسی بھی آزمائش میں صبر، ہمت، حوصلے کا دامن نہیں چھوڑتیں اور ایسی قیادت جو بڑے فیصلوں میں کسی تذبذب کا شکار نہیں ہوتی، بلاشبہ کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے اور تاریخ انہیں ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھتی ہے۔

“یہ تحریر بشکریہ ایکسپریس اردو شایع کی جا رہی ہے۔ یونائیٹڈ ٹی وی اور اس کی پالیسی کا مصنف کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ”

اپنا تبصرہ بھیجیں