بیمار سماج

مصنف، امانت علی

جس طرح انسان یا دوسرے جاندار بیمار ہوتے ہیں، بلکل اسی طرح معاشرے بھی بیمار ہو جاتے ہیں۔ جس طرح انسانوں کو مختلف بیماریاں لگتی ہیں اسی طرح معاشرے کو بیماریاں لگتی ہیں جیسا کہ عقیدہ پرستی، کم عقلی، شخصیت پرستی، اور اس طرح کے امراض جو عقل کے منافی ہوتے ہیں۔ جس طرح انسانی بیماریوں کے لیئے ہمیں میڈیکل سائنس کی ضرورت پڑتی ہے، ٹھیک اسی طرح بیمار معاشرے کو صحتیاب کرنے کے لیئے ہمیں سماجی سائنس کی ضرورت پڑتی ہے مثال کے طور پر فلسفہ، ادب، سیاست فن اور آرٹ وغیرہ۔
معاشرے مادی ہوتے ہیں اور اس میں جو تبدیلیاں آتی ہیں وہ بھی مادی ہی ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کا حل بھی مادی ہی ہوتا ہے لیکن ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ ہم سماجی تبدیلیوں کو کسی غیبی چیز کا عمل دخل مانتے ہیں۔ اگر زلزلہ آتا ہے تو ہم یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہم عبادات سے دور ہیں، اسی لیئے یہ زلزلہ کی صورت میں خدا کا عذاب ہے۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ زلزلہ ایک مخصوص قدرتی نظام کے تحت آتا ہے اور یہ جہاں پر آتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ یہاں پر لوگ عبادات گذار ہیں یا گنہگار؟ اور اس دھرتی پر زلزلے تو تب بھی آتے تھے جب اس دھرتی پر کسی انسان کا وجود ہی نہیں تھا۔ زلزلے سے بچا جا سکتا ہے لیکن اپنی فرسودہ رسم و رواج سے نہیں بلکہ ٹھوس سائنسی تدابیر سے۔ عبادات کا تعلق ہماری روحانیت سے ہوتا ہے۔ جب ہم روحانی طور پر پریشان ہوں تو بے شک ہم عبادت کر سکتے ہیں۔
معاشرے جامد نہیں ہوتے وہ ہر دور میں مختلف ثقافتی سیاسی اور معاشی مرحلے طے کرتے ہیں۔ وہ مختلف تبدیلیوں سے گذرتے ہیں جو ایک کائناتی سچ ہے کیونکہ یہ کائناتی حقیقت ہے کہ فطرت جامد نہیں ہوتی بلکہ وہ مسلسل تبدیلیوں کے مراحل سے گزرتی ہے اور معاشرہ چونکہ فطرت کا ایک حصہ ہے، اسی لیئے وہ بھی ان تبدیلیوں میں سے گزرتا ہے۔ ہم اپنے ہی معاشرے کی مثال لیتے ہیں، آج سے ایک سو سال پہلے کیا ہمارہ معاشرہ بلکل ایسا ہی تھا جیسا اب ہے؟ بلکل نہیں! آج سے ایک سو سال پہلے ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ آج سے سو سال پہلے لڑکیوں کے باہر نکلنے پر پابندی تھی لیکن اب نہیں ہے۔ ہم چاہتے آج بھی یہی ہیں کہ وہ گھر پر رہیں لیکن سماجی تبدیلی کے آگے ہم مجبور ہیں کیونکہ آج جو ہمارہ سماجی ڈھانچہ ہے وہ عورتوں کے باہر نکلنے سے ہمارے آگے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالتا۔
ہمارے سماج کو ایک اور بیماری ہے جس کو شخصیت پرستی کہا جاتا ہے۔ ہم اتنے شخصیت پرست ہیں کہ اگر ہم کسی کی شخصیت سے متاثر ہوں تو پھر بس! اس کے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسا عمل معاشرے کے لیئے بہت نقصاندہ ہوتا ہے۔ جب ہم شخصیت زدہ ہونگے تو ہمارے یہاں ترقی نہیں ہو سکتی۔ ہم ترقی تب ہی کر سکتے ہیں جب ہم شخصیت کے سحر سے ہٹ کر دوسروں کا نظریہ اور کام دیکھ کر ان کا انتخاب کریں۔ سندھ میں بھٹو کی شخصیت کا اتنا سحر ہے کہ لوگ ان کے نظریات سے ہی ناواقف ہیں جس کے باعث آج سب کے سامنے ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کو تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا ہے۔
آئیے، ہم روشن خیالی کی جانب قدم بڑھائیں۔ اس کے لیئے ضروری ہے کہ ہم فلسفہ کو پڑھیں تاکہ ہم سماج کی پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں اور ساتھ میں ترقی پسند ادب اور سیاست بھی پڑھیں تاکہ ہم اس گلے سڑے سماج کو بدل سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں