اناالحق اکادمی: روشن سندھ کی ایک تصویر

مصنف، سالار لطیف

“میں اپنے دفتری عوامل کے باعث گھر سے دور گیا ہوا تھا کہ اچانک میری طبیعت خراب ہوگئی” رمضان صاحب نے مجھے بتایا۔
دراصل میں نے ان سے انہی کے دیہات میں چلنے والی ایک خیراتی اکادمی بنانے کے پیچھے پسمنظر دریافت کیا تھا جس کے بعد میں گاڑی چلاتا رہا اور اگلی نشست پر براجمان وہ اپنی داستان کچھ اس طرح سناتے رہے۔
“میری طبیعت بہت ناساز تھی جس کے باعث میں نے اپنے کام سے چھٹی لی ہوئی تھی۔ علاج معالجہ تو چل رہا تھا لیکن جس جگہ میری رہائش تھی وہاں میں اکیلا ہوا کرتا تھا۔ دن میں تین مرتبہ ملازم کھانا پہنچانے آتا تھا اور چلا جاتا تھا۔ اس تنہائی میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب میں نے محسوس کیا کہ شاید میں اب نہ بچ سکوں۔ کرب کے اس لمحے کے دوران جو سوال مجھے مسلسل بیچین کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ کیا میں اسی طرح بغیر کوئی کام کیے اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں گا؟ ایک ایسا کام جو معاشرہ کی بہتری کے لئے ہو۔
پھر میں نے ٹھان لی کہ یہاں سے فراغت ملنے کے بعد جب میں واپس جاؤں گا تو کم از کم ایک ایسا کام ضرور کروں گا کہ جو اس معاشرہ کے لئے مفید ہو اور اسے آنے والی نسلیں بھرپور فائدہ حاصل کر سکیں۔”

انہوں نے اپنی نوید سنا کر ابھی ختم ہی کی تھی کہ ہم سندھ کے شہر دولتپور صفن پہنچ چکے تھے۔ دولتپور صفن ضلع نوابشاہ کا شہر ہے اور اس کا شمار دیہی سندھ میں ہوتا ہے تاہم باقی دیہی سندھ کی طرح یہاں پر بھی سرکاری طور پر تعلیم کے خاطر خواہ انتظامات نظر نہیں آئے۔ اسی شہر کے عقب میں ایک دروازے کے باہر ہم رکے تھے۔
یہ دولتپور صفن میں واقع “اناالحق اکادمی” تھی۔ اس اکادمی کا قیام 2018 میں کیا گیا تھا جس کے پیچھے اسی سوچ کا کردار تھا جو پہلے بیان کی گئی ہے۔ اس اکادمی میں دولتپور شہر اور اس کے مضافات میں واقع دیگر دیہاتوں سے عورتیں، بچے، نوجوان اور ہر مکتبہِ فکر کے لوگوں کا شمار نظر آیا۔ اناالحق اکادمی کا مقصد علاقہ کے نوجوان نسل کی ذہنی نشو نما بتایا گیا۔ اکادمی کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ” اس معاشرہ کا نوجوان سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نذر ہو کر کتاب سے دور ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث نوجوان کے ذہن میں ایک “ریڈی میڈ” سوچ گھر کر چکی ہے تاہم اسی نوجوان کو اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے کتاب کے نزدیک لانے کی کوشش کے طور پر اس اکادمی کی بنیاد ڈالی گئی۔”

اکادمی میں داخل ہوتے ہی ایک میدان واقع ہے جس پر بچوں کی کھیل کود کے لئے بیڈمنٹن کورٹ بنا ہوا ہے تاہم اکادمی کے اندر انڈور گیمز کے ہمراہ والی بال، کرکٹ اور بیڈمنٹن وغیرہ کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ علاقہ کے بچے اس کھیل کود کی لالچ پر پڑھائی کے یعن وقت پر یہاں پہنچ جاتے ہیں بلکہ جلدی جلدی اپنا کام مکمل کرنے میں بھی دلچسپی لیتے ہیں۔
محترم رمضان ، جو اس اکادمی کے خالق ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس اکادمی میں علاقہ کی کچھ استانیاں رکھی ہوئی ہیں جو رضاکارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اکادمی میں آنے والے بچوں کو سکول کا ہوم ورک مکمل کرواتی ہیں اور ان میں سے جو بچہ کسی مضمون میں نتائج نہیں دیتا تو اس کی رہنمائی کو بھی یقینی بناتی ہیں۔ اکادمی کے اندر کتب خانہ بھی واقع ہے جہاں پر نوجوان اپنے پرچوں کی تیاری کرتے ہیں۔ علاقہ کی عورتوں کی ذہنی نشونما کے لئے یہاں پر عورتوں کے مابین مختلف موضوعات پر بحث کروایا جاتا ہے اور اس اکادمی میں آنے والے تمام افراد کو ہفتہ وار فلم یا کوئی ڈاکومینٹری بھی دکھائی جاتی ہے۔

نوجوانوں اور عورتوں کے لئے یہاں ہفتہ وار اسٹڈی سرکلز بھی ہوتے ہیں جن میں حال ہی میں خود اعتمادی پر ایک نشست مکمل کی گئی ہے جس میں سے ایک امتحان بھی لیا جائے گا تا کہ اسٹڈی سرکل کے نتائج کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اسی اکادمی میں مختلف فنون کو فروغ دینے کی غرض سے بھی سیشنز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بچوں کو ڈرائنگ، پینٹنگ اور آرٹ کے مختلف اقسام سکھائے جاتے ہیں اور ان تمام فرائض میں علاقہ کی عورت رضاکاروں کا بہت بڑا کردار ہے جو اپنے فن کو بروئے کار لاتے ہوئے آنے والی نسلوں کو تیار کرنے میں اپنی خدمات وقف کررہی ہیں۔
خواہ اکادمی کا قیام ایک فرد کی کاوش تھا لیکن اس کا نظام چلانے کے لئے یہاں کے مقامی لوگوں نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ اب اس کے قیام کے دو سال بعد یہاں کسی فرد کے موجود ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس اکادمی میں تمام ترسرگرمیاں اپنے معمول کے مطابق ہوا کرتی ہیں جس کے لئے یہاں آنے والے نوجوانوں اور عورت رضاکاروں کی مختلف کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں تاکہ ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی عملی زندگی میں مشکل حالات کے ساتھ مقابلہ کرنا بھی آ سکے۔
وہ سندھ جس کی دیہات کے لئے کہا جاتا ہے کہ وہ قبائلی رسم و رواج کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے، کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل و غارت جیسی سیاہ رسوم جس معاشرہ پر بدنما داغ ہوں، ایسی سرزمین پر اس اکادمی کا قیام اور اس میں علاقہ کے لوگوں کا بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جہالت پر مبنی ایسی کہانیاں جغرافیائی خطوں پر انحصار نہیں کرتی بلکہ اس بات پر اپنے یقین کو محکم بنانا ہوگا کہ جہالت، علم کی عدم موجودگی کے باعث پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے ۔
ان تمام تر حقائق کے برعکس اکادمی کا سب سے روشن روشن پہلو یہ محسوس ہوا کہ علاقہ میں واقع تمام ہوٹلیں ویران پڑ گئیں ہیں جبکہ علاقہ کا نوجوان منشیات جیسی ذلت سے بھی کنارہ کش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں