کرونا وائرس اور حکومت کی فیصلہ سازی

مصنف، لطیف گاد

موجودہ صورتحال میں کرونا وائرس پر قابو پانا حکومتِ سندھ کے قابو سے نکل چکا ہے۔ اب فقط روزمرہ کے اعداد و شمار پر زور ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس رفتار سے اعداد و شمار بڑھ رہے ہیں حتیٰ کہ کہیں کہیں تو خاندانوں کے خاندان بھی اس وبا میں مبتلا ہو رہے ہیں، اس تناطر میں وائرس کی شدت دیکھ کر لگتا یہ ہے کہ آنے والے وقت میں ہسپتالوں میں جگہ ہی نہیں ہوگی۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو کھیلوں کے میدان ہسپتال میں تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اپنے ملک کی حالات کو دیکھ کر سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ وفاقی دارلحکومت کے عدم تعاون ، بار بار لاک ڈاؤن کی مخالفت، غریبوں کے لیے اپنی فرضی پریشانی اور وزیرِ اعظم کے سندھ کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک نے سندھ کے اندر پہلی مرتبہ حرکت میں آئی ہوئی پیپلزپارٹی حکومت کی کوششوں کو بھی تہس نہس کردیا ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ابتدائی دنوں میں حکومتِ سندھ جس طرح حرکت میں آئی تو ان کے حامی ہوں یا مخالف، دونوں نے ہی ان کی کوششوں کو سراہا اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے جبکہ لوگوں کو بھی اطمینان ہوا کہ اب وائرس مزید نہیں پھیل پائے گا لیکن وزیرِ اعظم کے کرونا وائرس سے متعلق پہلے خطاب میں ہی ان کے چہرے پر مایوسی نے یہ واضح اشارہ دے دیا کہ وہ حکومتِ سندھ کی مقبولیت سے ناخوش ہیں اور اپنے تمام تر خطاب میں انہوں نے سندھ کا تذکرہ کرنا بھی مناسب نہ سمجھا حالانکہ اس وقت سندھ ہی وہ واحد صوبہ تھا جو وائرس کے باعث سب سے زیادہ متاثر تھا۔ کچھ بھی تھا کیسے بھی تھا ،نیت کیا تھی کیا نہ تھی، لیکن اصل بات یہ ہے کہ آرام سے قابو میں آنے والا وائرس وفاقی حکومت کے دائرہِ اختیار میں آنے والے صوبائی اور افغان بارڈر کو بند نہ کرنے والی روش نے ہمیں مزید مشکل میں ڈال دیا جس کے نتیجے میں آج ہم مقامی سطح پر منتقلی کے کیسز کے باعث بری طرح پریشان ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب بھی حکومتِ سندھ نے لاک ڈاؤن کرنے اور سختی کرنے کا ارادہ کیا تو وزیرِ اعظم نے ٹی وی پر آکر مخالفت کی اور دوسرے ہی دن وہی فیصلے عثمان بزدار نے کئے تو ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ یہ ایک عجیب پالیسی تھی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اب جب کچھ نامعلوم وجوہات کی بنا پر حکومتِ سندھ نے قدم پیچھے ہٹائے ہیں اور لاک ڈاؤن نے بارہا بہتر نتائج دیئے ہیں تو روز ٹی وی پر آکر ڈرایا جا رہا ہے کہ کرونا کسی کو نہیں چھوڑے گا۔ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ اپریل کی آخر تک اتنے کیسز ہوں گے کہ ہسپتالوں میں جگہ نہ ہوگی وغیرہ وغیرہ۔
میں ایک عام شہری کی حیثیت سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ خدشات و گمان پہلے کہاں تھے؟ جب صورتحال قابو پانے کے قابل تھی۔ تب آپ کو 25 فیصد غریبوں کی فکر تھی تو اب کہاں ہے؟ وفاقی و سندھ حکومت دونوں ہی غریبوں کو دروازے تک امدادی سامان پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں جس کے باعث غریبوں والے بہانے کسی کام کے نہیں رہے اور میرے مشاہدے کے مطابق پاکستان کے اندر غریب جوں کے توں ہی رہیں گے۔ اس لئے ان کو کسی بھی قسم کی کوئی بڑی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ یہی ہمارے سماج کی حقیقت ہے جو ہر صورت میں تسلیم کرنی ہی ہوگی۔
دوسری جانب اس وقت لوگوں میں کھانے پینے کی اشیاء کی کمی ہے۔ لوگ روزی نہ ہونے کے باعث پریشان ہیں لیکن حال ہی میں چینی ماہرین کی جانب سے لاک ڈاؤن سخت کرنے والی تجویز کے باوجود حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والی باتیں موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ اس لیے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد حکومت ایسے گڑھے میں پھنس جائے گی جہاں سے نکلنا ناممکن ہوگا۔ یقین نہ آئے تو امریکہ، برطانیہ، اسپین، اٹلی، فرانس اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں جن کے پاس ہر ٹیکنالاجی ہونے کے باوجودبھی سر پیٹنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا۔ وفاقی و سندھ حکومتوں کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے سنجیدگی سے ہر پہلو کا جائزہ لینا چاہئے۔ باقی جذبے کے ساتھ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے والی دیو مالائی باتوں سے پرہیز کرکے عملی طور پر لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وائرس سے نہ تو لڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی جذباتی ہوکر اس پر کوئی ایٹمی حملہ کیا جا سکتا ہے لیکن صرف گھر بیٹھ کر احتیاط کے ہی ہتھیار سے اس سے دفاع کیا جا سکتا ہے۔ کرونا وائرس سے بچ جانے والے چین کا فارمولا اور رائے ایک ہی ہے اور وہ ہے لاک ڈاؤن۔ اب مزید بزرگان کی مرضی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن مذید سخت کرکے عوام کو گھر بیٹھے سہولت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر قوم کو اجتماعی خودکشی کی جانب دھکیلتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں