نظرانداز ہونے والا ایک عجائب گھر: سالار لطیف

ہمارے معاشرے سے تحقیق کا پہلو نہ جانے کہاں ہجرت کرچلا ہے؟ ہر انسان کی زندگی کا مقصد یہی بن چکا ہے کہ سنی سنائی بات پر آنکھ بند کرتے ہوئے نہ صرف یقین کرنا بلکہ اس میں اظافہ کرتے ہوئے دوسروں تک پہنچانا بھی ہمارا قومی فریظہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے”افواہ” ہمارے معاشرہ کا نصب العین بن کے رہ گیا ہے اور تحقیق میں یقین رکھنے والے مجھ جیسے کئی افراد کا شمار عقلمندوں کے دیس میں بیوقوف انسانوں میں ہی ہوتا ہے۔ دیومالائی قصوں کو سن کر اپنی ذاتی زندگی میں ان کے اثرات کو قبول کرنا اکیسویں صدی میں رائج الوقت روایات کی نفی ہے اور یہ عمل ہم بخوبی نبھا رہے ہیں۔ میں اسی سوچ کی چکی میں پیستا ہوا اسلام آباد میں لوک ورثہ میوزیم کی جانب گامزن تھا۔ گو کہ لوک ورثہ میوزیم گھومنے کا اتفاق اسے قبل بھی انیک مرتبہ ہو چکا تھا لیکن پھر بھی میں اسی میوزیم کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک راستے میں آنے والے پاکستان میوزیم برائے قدرتی تاریخ پر نظر پڑی۔ چونکہ میں گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہوا تھا اور زاہد بھائی، جو کہ پاکستان ٹیلی وژن میں پروڈیوسر ہیں، گاڑی چلا رہے تھے اور اگلی نشست پر میرے دادا ابواستاد غلام رسول براجمان تھے اس لیے میں اپنے کزن پرویز جتوئی کے ساتھ گفتگو میں مگن تھا اور پاکستان میوزیم برائے قدرتی تاریخ کے مین گیٹ پر لگے “وہیل” کے ڈھانچہ پر نظر پڑی۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ یہ میوزیم اسلام آباد کی ان چند جگہوں میں سے ہےجو اسلام آباد میں رہنے کے باوجود بھی میں نہیں دیکھ پایا اور اچانک پاکستان میوزیم برائے قدرتی تاریخ کی پارکنگ میں گاڑی رک گئی۔ زاہد بھائی نے کہا لوک ورثہ تو آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہونگے، آج آپ کو ایک نیا میوزیم دکھاتا ہوں اور ہم سب اندر داخل ہوئے۔
میوزیم کے اندر ڈائریکٹر جنرل کے دفتر جانا ہوا تو پتہ چلا وہ اپنے مہمانوں کے ساتھ مصروف ہیں۔ ابھی ہم ان کے دفتر سے نکل ہی رہے تھے تو ڈائریکٹر جنرل پاکستان میوزیم برائے قدرتی تاریخ محترم محمد رفیق صاحب اپنے دفتر سے باہر تشریف فرما ہوئے اور ہمیں اپنے دفتر میں اپنے ساتھ لے گئے۔ جیسا کہ وہ اپنے مہمانوں کے ساتھ مصروف تھے تو ان کے ساتھ مختصر گفت و شنید ہوئی اور زاہد بھائی نے تعارف کرواتے ہوئے ان کو بتایا کہ سندھ سے مہمان آئے ہیں۔ محمد رفیق صاحب اپنے مزاج میں بہت ہی مہمان نواز اور سنجیدہ انسان محسوس ہوئے۔ انہوں نے میوزیم کا دورہ کروانے کے لئے اسی میوزیم کے ایک جیولاجاسٹ محترم شاہد صاحب کو گائیڈ کے طور پر ہمارے ساتھ رہنے کا کہا جو ہمارے لئے ایک خوشی کی بات تھی کیونکہ شاہد صاحب کے ساتھ ہونے کی وجہ سے میوزیم کے بارے میں ہمیں جتنی جانکاری حاصل ہوئی اتنی ان کے علاوہ شاید نہیں ہو پاتی۔ میوزیم میں داخل ہوتے ہوئے شاہد صاحب نے ہمارے علم میں اظافہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ میوزیم پاکستان سائنس فائونڈیشن کی زیرِ نگرانی 1976 میں بنا تھا جو چار مختلف ڈویژنز پر مشتمل ہے۔ ان میں بوٹنیکل سائنسز، ارتھ سائنسز، زولوجیکل سائنسز اور پبلک سروسز کے ڈویژنز شامل ہیں جن میں سے پہلے تین ڈویژنز اپنے اپنے شعبوں میں تحقیق میں مصروف ہیں جبکہ پبلک سروسز ڈویژن میوزیم میں موجود نمونوں کی مدد سے مفادِ عامہ میں لوگوں کے لیے مختلف سیشنز، لیکچرز، اسٹال کے ذریعے آگاہی کا انعقاد کرتا ہے۔
شاہد صاحب کے ہمراہ ابھی ہم سیڑھیوں سے اتر ہی رہے تھے کہ میوزیم کی استقبالیہ پر شیشے کی صندوق میں ایک بہت بڑا مگر مچھ نظر آیا اور جیسے ہی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے پہنچے تو اس مگر مچھ کے مجسمے کے پاس پہنچ گئے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ دراصل یہ مجسمہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مگر مچھ ہے جو مردہ حالت میں یہاں لاکر رکھا گیا ہے اور یہاں موجود تمام جانور اسی طرح یہاں لاکر رکھے گئے ہیں جن میں سے کوئی بھی جانور یا پنچھی مصنوعی نہیں ہے۔ یہ بات سن کر ایک خوف سا محسوس ہونے لگا کیونکہ اب جس جگہ ہم موجود تھے وہاں ہر سو مختلف جانور ہی جانور نظر آرہے تھے جن کی آنکھوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ حملہ آور ہونے کے لئے ہماری جانب آرہے ہوں۔ مگر مچھ کو دیکھتے ہوئے تھوڑا ہی آگے کی طرف گئے تو شیشے میں سے باہر کی طرف نظر پڑی جہاں لان کے درمیان لگے پتھروں سے بھی مگر مچھ ہی کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔ ابھی وہاں سے آگے جا ہی رہے

تھے کہ بوٹنیکل ڈویژن سے تعلق رکھنے والے محمد عمران صاحب بھی ہمارے قافلہ میں شامل ہو گئے جن کی موجودگی نے میوزیم گھومنے کا مزہ دوگنا ہی کردیا کیونکہ ان کی آمد کے بعد اب ہمیں مکمل معلومات حاصل ہو رہی تھی جو بریفنگ کے دوران شاہد صاحب سے رہ جاتی تھی۔ ابھی ہمیں ایک غار کی طرف لایا گیا جو بہت ہی بھیانک دکھائی دے رہی تھی اور اندر ہر طرح کے کیڑوں کا منظرنامہ پیش کررہی تھی۔ میوزیم میں گھومتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی ایک پل میں کہیں نہ کہیں سے کوئی جانور نمودار ہوگا اور ہمارے اوپر دھاوہ بول دے گا۔ مختلف اقسام کے سانپ، کچھوہ، کیڑے، پرندے اور ایسے جانور موجود تھے جن کے نام بھی ہم نے کبھی نہیں سنے اور یہ بتایا گیا کہ پاکستان کے مختلف جنگلات میں ان کی موجودگی کے شواہد ہونے کی بنا پر ان کے نمونے یہاں لاکر رکھے گئے ہیں۔

جانوروں کے بعد ہم پتھروں کی گیلری میں آئے جہاں پاکستان کے پہاڑی علاقوں سے ملنے والے پتھر رکھے ہوئے تھے جن میں کورل، ٹائگرز آئی، کوارٹز، رینبو، ٹوپز، پرل، اوپل، پیریڈوٹ و دیگز نایاب نسل کے پتھر موجود تھے ۔
میوزیم میں لکڑی کا ایک بہت بڑا حصہ موجود ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ لکڑی کے اس ٹکڑے کے اندر فنگر پرنٹز کی مانند نظر آنے والی باریک لکیروں کا تعداد 285 ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ ٹکڑا 285 برس پرانا ہے تاہم ان لکیروں کی مدد سے ماہرین ان باتوں پر یہ تحقیق کرتے ہیں کی ان 285 برس کے دوران کتنی بارشیں ہوئیں، کب طوفان آیا، قحط سالی کا تناسب کتنا رہا؟ ان لکیروں میں سے ٹوٹی ہوئی لکیر زلزلہ کی نشاندہی کرتی ہے۔

میوزم کے ایک حصہ میں ڈائنوسارز کی گیلری بھی موجود ہے جہاں موجود ڈائناسارز کو اس طرح سے رکھا گیا ہے کہ ان کا پورا جسم حقیقی ڈائناسار کی طرح چہل پہل کر رہا تھا اور وہ جس وقت اپنی ہولناک زبان باہر نکال رہے تھے تو وہاں ڈائناسار کی آوازیں آڈیو میں چلتی ہیں جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان ڈائناسارز کے درمیان کھڑا ہوا ہے۔
اسلام آباد میں رہنے والے بیشتر افراد جو اس میوزیم کے باہر سے گذرتے ہوئے گھوڑے نما ایک بہت بڑے جانور کے نمونے کو دیکھتے ہونگے وہ اس کی حقیقت سے شاید ناآشنا ہوں جس کے حوالہ سے بتایا گیا کہ اس جانور کی ہڈیان بلوچستان کے کسی علاقہ سے ملی تھین جن پر تحقیق کرتے ہوئے یہ مجسمہ تیار کیا گیا ہے تاہم یہ جانور زندہ حالت میں نہیں مل سکا تھا اور تحقیق سے یہ بات بھی پتہ چلی تھی کہ یہ جانور ایک وقت پر تقریبن 2 ٹن یعنی 2000 کلو گھاس کھایا کرتا تھا جس کو بعد میں ماہرین کی جانب سے “بلوچی تھیریم” کا فرضی نام دیا گیا ہے۔
میں نے آج تک پاکستان میں جتنے بھی میوزیم گھومے ہیں ان میں سے یہ میوزیم ایک منفرد حیثیت کا میوزیم تھا جہاں جا کر علم میں بہت اضافہ ہوا۔ حکومت کو چاہئے کہ ملک میں ڈویژن سطح پر ایسے میوزیم بنائے جن کی بدولت ایک طرف ملک میں تحقیق کے شعبہ کو فروغ مل سکتی ہے دوسری جانب انسان گہما گہمی کی کیفیت سے نجات حاصل کر سکتا ہے ۔ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ اس عمل سے معاشرہ سے نفرت، عدم برداشت اور دیگر منفی رویوں کا خاتمہ ممکن بن سکتا ہے۔

سالار لطیف

اپنا تبصرہ بھیجیں