کرونا وائرس، چین سے قبل فرانس میں موجودگی کا انکشاف

کراچی (ویب ڈیسک) دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لینے والے مہلک کرونا وائرس سے متعلق ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین سے قبل کرونا وائرس کا پہلا کیس فرانس کی ایک ہسپتال میں رپورٹ ہوا تھا۔ اب تک سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق چین میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 31 دسمبر 2019 کو رپورٹ ہوا تھا تاہم اس سے قبل فرانس کی ایک ہسپتال میں 27 دسمبر 2019 کو ایک مشتبہ مریض میں کرونا وائرس موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ترجمان عالمی ادارہ برائے صحت کرسچن لندمیئر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ اس انکشاف کے بعد کروناو ائرس سے متعلق دنیا بھر میں منظر تبدیل ہوتے دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کی ایک ہسپتال میں نمونیہ کے مریضوں کے پرانے نمونوں کی دوبارہ تشخیص کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ہسپتال میں 27 دسمبر کو ایک ایسے مریض کا علاج کیا گیا تھا جس کو کرونا وائرس تھا تاہم فرانس میں وائرس کے باضابطہ کیسز کی تعداد اس سے ایک ماہ بعد ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔
فرانس میں نمونیہ کے مشتبہ مریض کا کوئی سفری رکارڈ یا چین سے آمد و رفت کے شواہد نہیں ملے ہیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ماہیگیر مریض سے متعلق مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ترجمان نے مزید کہا ہے کہ اب تک ملنے والے شواہد سے یہ بات طے ہے کہ کرونا وائرس کی شروعات چین سے ہی ہوئی ہے لیکن فرانس سے آنی والی اطلاعات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس کی شروعات سے متعلق دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس سے متعلق چین اور امریکہ کے مابین ایک سرد جنگ بھی جنم لے چکی ہے۔ امریکی سیکریٹری مائک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ کرونا وائرس کی تیاری چین کی ایک لیب میں کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مختلف اوقات پر چین پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب چین کا یہ کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار امریکہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں