توہینِ مذہب کے الزام میں پروفیسر کی گرفتاری پر سندھ میں شدید غم و غصہ

کراچی (بیورو رپورٹ) خیرپور میں جامعہِ شاہ لطیف کے پروفیسر کی توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتاری کے خلاف سندھ بھر میں شدید غم و غصہ سامنے آیا ہے۔ جامعہِ شاہ لطیف کے شعبہِ سندھی کے پروفیسر ساجد سومرو کو آج دوپہر خیرپور کے محلہ علی مراد میں واقع ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا۔ پروفیسر کی گرفتاری کی کارروائی میں تھانہ شاہ حسین، تھانہ اے سیکشن اور ایگل فورس کی بھاری نفری نے حصہ لیا۔

پروفیسر ساجد سومرو پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرنے کے خلاف سندھ بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ گرفتار پروفیسر کی گذشتہ کچھ روز سے سندھی ادبی سنگت رہنماء احمد سولنگی کے ساتھ سماجی روابط کی ویب سائٹ پر سخت چپکلش جاری تھی کہ اچانک پولیس کی جانب سے ایسی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ سندھ کے سیاسی سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس کارروائی کے پیچھے احمد سولنگی کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ وزیرِاعلیٰ ہاؤس میں اہم نوکری پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر کی گرفتاری کے وقت چادر و چودیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے خاتون کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا گیا تاہم پروفیسر ساجد سومرو کو بیماری کی حالت میں گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے موقع پر پروفیسر ساجد سومرو کا کہنا تھا کہ میں ایک تعلیم یافتہ صوفی منش مسلمان ہوں لیکن ہر طرح کی انتہاپسندی کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کے لئے صفِ اول میں متحرک رہا ہوں جس کی بنا پر مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے رہنما سندھی ادبی سنگت احمد سولنگی پر الزام عائد کرتے ہوئے اپنی گرفتاری کا ذمہ دار قرار دیا تاہم اپنے خلاف ہونے والے مقدمے میں لگائے جانے والے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا۔
پروفیسر ساجد سومرو کی گرفتاری کے وقت خیرپور کی سیاسی سماجی تنظیموں کے رہنما، لکھاری، شعراء اور صحافی ان کے گھر اور تھانہ پہنچ گئے جن کا کہنا تھا کہ پروفیسر ساجد سومرو پر لگائے جانے والے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور وہ من گھڑت ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ دوسری جانب پروفیسر ساجد سومرو کی گرفتاری کی خبر سماجی روابط کی ویب سائٹ پر شایع ہوتے ہی سندھ بھر میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا ہے۔ پروفیسر کی گرفتاری کو سندھ کے شعور کو دبانے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سندھ مذہبی انتہاپسندی کے اس روپ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے توہینِ مذہب کے الزامات کی مذمت کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں