جرائم پیشہ افراد کے سرپرست کوپولیس کی جانب سے امن کی سند، معمہ حل نہ ہو سکا

کشمور (نامہ نگار، غلام عباس دایو) قبائلی سردار تیغو خان تیغانی کو پولیس کی جانب سے امن کی سند دینے کا معمہ حل نہ ہو سکا۔ آئی سندھ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب شہید ڈی ایس پی شفیع اللہ کے بیٹے نے پولیس کے ایسے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیغو خان تیغانی نے اس کے شہید والد کے قاتلوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اس سے قبل بھی جرائم پیشہ افراد تیغو خان تیغانی کی سرپرستی میں جرائم کرتے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ واقعہ سے متعلق شہید ڈی ایس پی شفیع اللہ کے بیٹے نے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ کر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سندھ کے قبائلی اضلاع میں جرائم پیشہ افراد کے سرپرست سمجھے جانے والے قبائلی سردار تیغو خان تیغانی کو 6 مارچ کو ایس ایس پی شکارپور کامران نواز اور ایس ایس پی کشمور اسد رضا نے امن کی سند دی تھی جس پر سندھ کے سیاسی سماجی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا کیونکہ مذکورہ سردار کی انہی اضلاع میں اپنی ریاست قائم ہے جن کی پولیس نے انہیں امن کی سند سے نوازا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں