کیا واقعی سخت ترین لاک ڈاؤن ہونے جا رہا ہے؟

کراچی (ویب ڈیسک) کرونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے پیشِ نظر صوبائی حکومتیں عوام کے غیرذمہ دارانہ رویے پر سیخ پا ہوتے دکھائی دے رہی ہیں۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن حکومت کی جانب سے اس شرط پر ختم کیا گیا تھا کہ عوام احتیاطی تدابیر کا خیال رکھے گی لیکن لاک ڈاؤن کے بعد عوام کی جانب سے ملک بھر میں احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کرنے کے باعث کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواہ کے معاون اجمل وزیر نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ صوبے میں کرون وائرس کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے نافذ کردہ قوانین اور نظم وضبط کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے اور عوام اس کی پاسداری نہیں کررہی جس کے باعث کرونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے۔ ایسی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی تمام تر کوششیں عوام کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے ہیں جس کے دوران حکومتی اراکین کرونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں لیکن عوام کو اس بات کا احساس نہیں ہے۔
گذشتہ روز وزیرِ اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے بھی عوام کی اس روش سے شکوہ کرتے ہوئے صوبے میں سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اشارہ کیا تھا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں لوگوں کی لاپرواہی کے باعث اب نافذ ہونے والا لاک ڈاؤن پہلے والے لاک ڈاؤن سے مزید سخت ہوگا اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے حکومت ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں