کل سے لاہور کے کئی علاقوں میں 15 روز کیلئے لاک ڈاؤن کیا جائے گا: ڈاکٹر یاسمین راشد

کراچی، ویب ڈیسک

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ کل رات 12 بجے سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے باعث لاہور کے کئی علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یاسمین راشد نے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد حکومت کی طرف سے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عملدرآمد کروانے کی پوری کوشش کی گئی اور اس کی خلاف ورزی پر دکانیں اور مارکیٹس بھی سیل کی لیکن لوگوں نے عمل نہیں کیا۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان لاہور آئے تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ جن علاقوں میں وائرس کا پھیلاؤ زیادہ ہے اس حوالے سے اقدامات کرنے ہوں گے۔
یاسمین راشد نے کہا کہ گزشتہ 2 روز میں ہم نے دیکھا کہ لاہور کے جن علاقوں میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہی ہے ان کے حوالے سے مختلف احتیاطی تدابیر اپنائی جائے گی۔

وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ وائرس کے زیادہ پھیلاؤ کے باعث کل 12 بجے کے بعد ان علاقوں کو بند کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں شاہدرہ، اندرون لاہور کے کچھ علاقے، مزنگ، شاد باغ، ہربنس پورہ، گلبرگ، لاہور کینٹ کے کچھ علاقے، نشتر ٹاؤن کا بیشتر حصہ اور علامہ اقبال ٹاؤن میں شامل کچھ سوسائٹیز کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ان علاقوں میں، کھانے پینے کی اشیا، فارمیسیز اور کچھ کاروبار جیسا کہ حفاظتی طبی آلات بنانے والی فیکٹریاں کھلی رہیں گی، جن کی فہرست آویزاں کردی جائے گی جس کا اطلاق کل رات 12 بجے سے ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ کمشنر لاہور اور سی سی پی او لاہور کی مدد سے اس حکم پر عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یاسمین راشد نے کہا کہ لاہور کے ان علاقوں می کم از کم 2ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے اور دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے اگر کچھ بہتری آئی تو ان علاقوں کو وقت سے پہلے کھولا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر علاقے جہاں ایس او پیز پر عمل نہیں ہورہا انہیں بھی خبردار ہوجانا چاہیے کہ اگر ایسا کرنے سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا تو یہ نہ ہو دیگر علاقوں کو بھی بند کردیا جائے۔

ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں تاکہ معیشت بھی چلتی رہے اور کاروبار بھی چلتا رہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ میں روک تھام کی جاسکے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ جیسا کہ وزیراعظم نے کہا تھا ماسک کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کو 50 فیصد تک روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کو محفوظ رکھنا ہے، خود کو ان سے دور رکھنا ہے کیونکہ اگر آپ کسی ضروری کام سے باہر جاتے ہیں تو گھر میں وائرس لا کر انہیں متاثر کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ ٹی وی پر مسلسل کہا جارہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہوگئی ہے، اگر واقعی حکومت ناکام ہوگئی ہے تو دنیا کی ساری حکومتیں ناکام ہوگئی ہیں۔

وزیر صحت پنجاب نے کہا کہ یہ ایک وائرل انفیکشن ہے اور پوری دنیا میں اسے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین جیسا مہذب ملک جس نے بہت سختی کی اور مہذب طریقے کے ساتھ اس وائرس کو روکا وہاں یہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کئی مرتبہ یہ بھی افسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا موازنہ نیوزی لینڈ اور تائیوان سے کیا جاتا ہے جو مکمل طور پر کورونا وائرس پر قابو پاچکے ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کی پوری آدھے لاہور سے بھی کم ہے، ایسی جگہ پر وبا کو کنٹرول کرنا آسان ہے۔

ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا کہ ہم دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی ہے لیکن ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف پنجاب نہیں بلکہ سندھ، خیبرپختونخوا،بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے جو کوششیں کی اس کی مثال نہیں ملتی۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اگر ہم اپنا موازنہ بھارت کے ساتھ کریں تو مجھے پورا یقین ہے کہ ہم کئی گنا بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کے ایک لاکھ 44 ہزار کیسز کا مقابلہ اس سے ہونے والی 2 ہزار 720 اموات سے کریں تو شرح اموات دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم اور 1.8 ہے۔

ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا تھا کہ یہ ایک وبا ہے بطور حکومت ہماری کوشش ہے کہ نہ صرف اس پر قابو پائیں بلکہ اس کے علاج معالجے کے لیے بھی کوششیں کی جارہی ہیں۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ پنجاب میں سرکاری ہسپتالوں میں 140 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس اور نجی ہسپتالوں میں 368 ایچ ڈی یو بیڈز ہیں جن میں سے 30 فیصد ابھی بھی دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میو ہسپتال اور جناح ہسپتال میں مزید 15، 15 وینٹی لیٹرز نصب کیے گئے ہیں، پی کے ایل آئی کو مزید 50 ایچ ڈی یو بیڈز فراہم کیے جائیں گے اور اگلے ہفتے کے اندر 1000 آکسیجنیٹڈ بیڈز فراہم کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہلاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 358 اور واپڈا ٹاؤن میں 259 کیسز سامنے آئے جب مریضوں کی اتنی بڑی تعداد ہو تو علاقوں کو بند کرنا پڑے گا، ان علاقوں کو بند کیا جارہا ہے جہاں کیسز کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں