لاڑکانہ، وزیرِاعظم کی آمد پر سیاسی درجہِ حرارت میں اضافہ

لاڑکانہ (نامہ نگار، نور احمد عباسی) وزیرِاعظم عمران خان کے دورہِ لاڑکانہ کے موقع پر پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ وزیرِاعظم کا پتلہ نذرِ آتش کرنے پر تحریکِ انصاف کی قیادت کا شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ وزیرِاعظم کی آمد کے موقع پر لاڑکانہ کو تحریکِ انصاف کے جھنڈوں سے سجایا گیا تھا ور تحریکِ انصاف کارکنان کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔ وزیرِاعظم عمران خان کی آمد ہوتے ہی پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔ انصاف ہاؤس کے سامنے دھرنا دے کر وزیرِاعظم کا پتلہ نذرِ آتش کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ وزیرِاعظم نہیں چاہئے۔ اس موقع پر مظاہرین کی جانب سے “لوڈ شیڈنگ ختم کرو عوام دشمن بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔
رہنماتحریکِ انصاف حلیم عادل شیخ نے واقعہ پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے لوگوں کو دیکھنا چاہئے کہ پیپلزپارٹی نے کتنی گری ہوئی حرکت کی ہے۔ ہماری حکمتِ عملی یہ ہے کہ سندھ کو پیپلزپارٹی سے نجات دلائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ذات کا پتلہ نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی سیاست کا پتلہ جلا کر رہیں گے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ پر معافی مانگی جائے بصورت دیگر تحریکِ انصاف کے کارکنان پیپلزپارٹی رہنماؤں کا گھروں سے نکلنا مشکل کردیں گے۔

ترجمان برائے پیپلزپارٹی صوبائی صدر شکیل میمن نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم کی لاڑکانہ آمد سے قبل پیپلز پارٹی کارکنان کیجانب سے وفاق کی سندھ کے ساتھ زیادیتوں کے خلاف احتجاج رکارڈ کرانا عوام کا جمہوری حق تھا کیونکہ جمہوریت میں اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ احتجاج رکارڈ کرانے کا سب کو حق حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِاعظم کا پتلہ نذرِ آتش ہونے سے تحریکِ انصاف کی چیخیں نکل گئی ہیں لیکن ایسے پتلے تو امریکا میں بھی صدر کے جلائے جاتے ہیں۔ اب عوام گلی گلی “گو عمران گو” کے نعرے لگانے پر مجبور ہوگی۔
وزیرِاعظم کے دورہِ لاڑکانہ کے دوران پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے مابین سیاسی رسہ کشی کے باعث میڈیا کو کوریج سے دور رکھا گیا۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی لاڑکانہ آمد کے موقع پر تحریکِ انصاف سندھ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جماعت میں حال ہی میں شامل ہونے والے رہنما سیف اللہ ابڑو کے گھر وزیراعظم کی آمد کے باعث کئی رہنما اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو اور تحریکِ انصاف کے سابق صوبائی صدر امیر بخش بھٹو نے ناراضگی کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کی جبکہ پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر این اے 201 پر الیکشن میں حصہ لینے والے الله بخش انڑ بھی ناراض ہوکر اجلاس میں نہ آئے۔ 2014 میں عمران خان کا جلسہ کروانے والے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شفقت انڑ بھی وزیر اعظم سے ملنے نہیں آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں