بلوچستان میں کرونا وائرس کے ایک سو دن کیسے رہے؟

کراچی (ویب ڈیسک) صوبائی حکومت بلوچستان کی جانب سے کرونا وائرس سے متعلق 100 دن کی کارکردگی ظاہر کی گئی ہے۔ ترجمان صوبائی حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے 90 افراد متاثر ہونے پر 17 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا جس کے بعد وائرس کے پھیلاؤ میں کسی حد تک کمی دیکھی گئی تھی۔ لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ لوگ کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے اس لئے بھی تیار نہیں تھے کیونکہ ایک تو وہ خائف تھے کہ کہیں وائرس کا شکار نہ ہو جائیں اور وہ قرنطینہ میں نہیں رہنا چاہتے تھے تاہم بعدازاں حکومت کی جانب سے لوگوں کو گھروں میں ہی قرنطینہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تو اس کے بعد لوگ تشخیص کرانے پر رضامند ہوئے اور پھر متاثرین میں اضافہ دیکھا گیا۔
لیاقت شاہوانی نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے مزید ایک ماہ تک لاک ڈاؤن میں توسیع کی صورت میں صوبے کے اندر 17 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ تھا جس کے باعث حکومتی قوانین کی روشنی میں احتیاطی تدابیر پر عمل کو یقینی بناتے ہوئے لاک ڈاؤن کھولا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے بھر میں یومیہ 80 ٹیسٹ کی جارہی تھیں تاہم اب پانچ لیبارٹریز کی مدد سے صوبے میں یومیہ ایک ہزار 200 ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں