لاڑکانہ، صوبائی اور وفاقی حکومت کی رسہ کشی نے پولیس کو شش و پنج کردیا

لاڑکانہ (نامہ نگار، نور احمد عباسی) وزیرِاعظم کی لاڑکانہ آمد سے قبل پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے احتجاج اور وزیرِاعظم کا پتلہ نذر ِآتش کرنے کا معہا حل نہ ہوسکا۔ پولیس افسران تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ پولیس نے تحریکِ انصاف کی مقامی قیادت کے اسرار پر پیپلز پارٹی کے مظاہرین پر ایف آئی آر کا مسودہ تیار کیا تاہم اس پر افسران نے دستخط نہیں کیے۔

ایس ایس پی مسعود بنگش نے میڈیا کو موصول ہونے والی مقدمے کی کاپی کو جعلی قرار دے دیا۔ جعلی ایف آئی آر کہاں سے اور کیسے لیک ہوئی؟ اس سے متعلق تحقیقات کروائی جائے گی۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز وزیرِاعظم کی لاڑکانہ آمد سے قبل پیپلز پارٹی کی ذیلی تنظیم کے کارکنان نے انصاف ہاؤس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا پتلہ نذرِ آتش کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی رسہ کشی کے بعد ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش کا تبادلہ متوقع ہے تاہم ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ لاڑکانہ میں رخسار احمد کھہاوڑ کو بطور ایس ایس پی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں