برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد میں مندر تعمیر کیا جائے گا۔

کراچی، ویب ڈیسک

ملکی تاریخ میں پہلی بار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مندر کی بنیاد رکھ دی گئی،1947کے بعد اسلام آباد میں پہلا مندر تعمیر کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق برِصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اسلام آباد میں پہلا مندر تعمیر کیا جائے گا، اس سلسلے میں ہندو برادری کی عبادت گاہ کیلئے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں جگہ مختص کردی گئی ہے۔

اس موقع پر سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تحریک ِانصاف کے رہنما اور پارلیمنٹری سیکریٹری ہیومن رائٹس لال مالہی مہمانِ خصوصی تھے۔

کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اسلام آباد کی ہندو پنچائت کو4مرلے کا پلاٹ الاٹ کیا گیا، پلاٹ2017میں نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کےاحکامات کی روشنی میں الاٹ کیا گیا، مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے اور چار دیواری کے کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں ایک بھی مندر نہیں تھا جہاں ہندو برادری اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکے مندر کی افتتاحی تعمیرات کا آغاز پاکستان تحریکِ انصاف کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی لال مالہی نے کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لال مالہی نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اقلیتوں کو مسجد میں جانے سےروک رہا ہے جبکہ ہم اسلام آباد میں شری کرشن بھگوان کے مندر کی تعمیر کررہے ہیں، یہ پاکستانی ریاست وحکومت کی پالیسی ہےاقلیتوں کوحقوق دیئےجائیں۔

ایم این اے لال مالہی نے حکومت سے اپیل کی کہ مندر کی تعمیر کیلئے بھی فنڈز مہیا کیےجائیں، تقریب میں ہندو پنچائت کے پریتم داس، مہیش چوہدری،اشوک کمار،چمن لال اور دیگر بھی موجود تھے۔

خیال رہے کہ برِصغیر کی تقسیم کے بعد اسلام آباد میں ایک مندر رہ گیا تھا جسے حکومت ِ پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیا جو آج ایک میوزیم کی صورت میں موجود ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں