آج دنیا بھر میں 89 واں یوم ِشہدائے کشمیر منایا جارہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر جانوں کا نذرانہ دینے والوں کی یاد میں آج دنیا بھر میں یوم شہداء کشمیر منایا جا رہا ہے۔

وادی کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تیرہ جولائی انیس سو اکتیس ہے، جب کشمیر کی ڈوگرہ حکومت نے سری نگر میں فائرنگ کرکے بائیس مظلوم کشمیری مسلمانوں کو شہید کردیا تھا، جن کی یاد میں آج شہداء کشمیر منایا جا رہا ہے۔یہ مظلوم کشمیری سری نگر کی جیل کے باہر جمع تھے جہاں قید کشمیری نوجوان عبدالقدیر خان کو مقدمے کی سماعت کے لیے عدالت لے جانا تھا۔

اس دوران نماز ِظہر کا وقت آگیا مگر مظاہرین کو نماز ادا کرنے کی اجازت نہ ملی، ایسے میں ایک شخص اذان دینے کے لئے کھڑا ہوگیا مگر ڈوگرہ مہاراجہ کے سپاہی نے اس شخص کو گولی مار کے شہید کر دیا لیکن اذان دینے کا سلسلہ جاری رہا اور اذان مکمل ہونے تک 22 نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔

اس سفاکانہ واقعہ نے کشمیریوں کے دلوں میں حریت پسندی کے جذبے کو جنم دے دیا، قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبرا قبضہ کرکے معاہدوں اور دستاویزات کی دھجیاں اڑا دیں اور کشمیر کی عوام کو ظلم و ستم کے شعلوں میں دھکیل دیا۔

بھارتی مظالم کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری شہید، مائیں اور بہنیں بے سہارا اور بچے یتیم ہوچکے ہیں ۔

شہداء کشمیر کے سلسلے میں بھارت مخالف مظاہروں کو روکنے کے لئے علی گیلانی، میرواعظ عمرفاروق کو گھروں میں نظربند اور یاسین ملک کو جیل میں بند کردیا گیا ہے لیکن آزادی کے متوالوں کو نہ پہلے کوئی ظلم روک سکا نہ آج کوئی جبر راستہ روک سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں