پارک لین ڈیفالٹ کیس: آصف زرداری کے ریمانڈ میں 15 جولائی تک توسیع

اسلام آباد(ویب ڈیسک) جعلی اکاؤںٹس کیس کے ضمنی ریفرنس پارک لین ڈیفالٹ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کے ریمانڈ میں 15 جولائی تک کے لیے توسیع کردی گئی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے آصف زرداری کو پارک لین کیس میں ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ آصف زرداری کو پارک لین کیس میں گرفتار کیا ہے جو پہلے ہی حراست میں ہیں، ان سے پارک لین کیس میں تفتیش کرنا ہے اس لیے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ جج ارشد ملک نے استفسار کیا کہ آپ ابھی سے باقی کیسوں کے سوال بھی کرلیں اور جو جو تحقیقات زیر التوا ہیں وہ کرلیں۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بتادیں کہ اور کتنے کیسز میں گرفتار کرنا ہے جس پر پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر نہیں بتا سکتے۔ اس موقع پر آصف زرداری نے فاضل جج سے کہا کہ مجھے طویل ریمانڈ پر کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ عدالت نے فریقین وکلا کے دلائل سننے کے بعد نیب کو آصف زرداری سے پارک لین ڈیفالٹ کیس میں پوچھ گچھ کی اجازت دیتے ہوئے ریمانڈ میں 15 جولائی تک توسیع کردی۔ یاد رہے کہ احتساب عدالت نے گزشتہ روز جعلی اکاؤنٹس کیس کے بعد پارک لین کیس میں سابق صدر آصف زرداری کی گرفتار ظاہر کی تھی۔ آصف زرداری پر پارک لین کمپنی اور اس کے ذریعے اسلام آباد میں 2 ہزار 460 کنال اراضی خریدنے کا الزام ہے جب کہ اس کیس میں بلاول بھٹو زردای بھی ملزم ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خریدی گئی تقریباً ڈھائی ہزار کنال زمین کی اصل مالیت دو ارب روپے ہے لیکن اسے صرف 62 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں