بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدام کے خلاف قومی اسمبلی میں احتجاج

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بطور احتجاج قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی زیر صدارت شروع ہوا۔اجلاس شروع ہوتے ہی ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا بھارتی اقدام اور کشمیر میں جارحیت قابل مذمت ہے اور پاکستانی عوام کے نمائندے بھارتی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ بھارتی اقدام پر احتجاج کرتی ہے، کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جارہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کے حملوں کی مذمت کرتی ہے، بھارت نےکشمیر سے متعلق آئینی شق ختم کرنے کا ڈھونگ رچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بطور احتجاج جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کیا جاتا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر منگل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے۔مشترکہ اجلاس کے باعث وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ملتوی کردیا گیا ہے جس کے بعد اب کابینہ میٹنگ بدھ کو ہوگی۔یاد رہے کہ بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے، آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں