رضا ربانی نے کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم کی کمیٹی مسترد کردی

اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس دوسرے روز پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی میں کوئی بھی منتخب نمائندہ شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی کمیٹی قابل قبول نہیں، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے۔ سابق چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے تجویز دی کہ خارجہ امور کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے کیونکہ عالمی سطح پر پاکستان کی آواز صرف اسی صورت سنی جائے گی جب پارلیمنٹ کے ذریعے پالیسی سازی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ امریکا کہے یا کوئی اور ہمیں بھارت کو خطے کا تھانیدار تسلیم کرنے سے انکار کرنا ہوگا، اپنی قومی سلامتی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ 1947ء سے اب تک یہ مسئلہ درپیش ہے‘ ہماری خارجہ پالیسی ناکامی کا شکار ہے کیونکہ پارلیمنٹ کا پالیسی سازی میں کوئی کردار نہیں ہے۔ سابق چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کی اشرافیہ نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھا اور قومی مفادات کو قربان کیا، باہر کے اخبارات لکھ رہے ہیں کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر نے پلوامہ کے واقعہ کے فوری بعد اس بات کا اظہار کیا تھا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرنے جارہے ہیں مگر ہم نے اس صورتحال کا بروقت ادراک نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو امریکا کے دورے کے موقع پر امریکا کی طرف سے اس حوالے سے کوئی اشارہ بھی نہیں دیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے نتیجے میں مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت بن گیا اور گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے حوالے کردی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی، عصمت دری اور قتل و غارت کے لیے آگے بڑھ رہا ہے، وہ وقت آنے والا ہے جب کشمیریوں کو لائن آف کنٹرول کے اس طرف دھکیلا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں