بھارت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منصفانہ پالیسی اختیار کرے، ایران کا دوٹوک پیغام

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے بھارت کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے منصفانہ پالیسی اختیار کرے۔تہران میں صدر حسن روحانی سے ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ کشمیریوں کو مزید ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا، برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ جان بوجھ کر خطے میں ایک زخم چھوڑ گیا جس کی وجہ سے کشمیر میں تنازع جاری رہا۔ایرانی صدر حسن روحانی اور کابینہ ارکان سے ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ ایران کے بھارت سے اچھے تعلقات ہیں لیکن ہم بھارت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کشمیر سے متعلق منصفانہ پالیسی اپنائے اور کشمیریوں کے استحصال کو روکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر برطانوی راج کے شیطانی اقدامات کا نتیجہ ہے، پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو طول دینے کیلئے برطانیہ نے جان بوجھ کر اسے غیرحل شدہ چھوڑا۔ بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے 6 اگست کو لوک سبھا سے بھی دونوں بل بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 مقبوضہ کشمیر میں خصوصی اختیارات سے متعلق ہے۔آرٹیکل 370 ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی دیتا ہے۔بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں