اسپیکرز کانفرنس میں کشمیر کا مسئلہ اٹھائے جانے پر بھارتی وفد آپے سے باہر ہو گیا

مالدیپ میں ہونے والی اسپیکرز کانفرنس کے دوران پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر اٹھائے جانے پر بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر آپے سے باہر آ گئے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 ختم کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی بین الاقوامی فورم پر پاکستان اور بھارت کے حکومتی وفود آمنے سامنے آئے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے مالدیپ میں جاری اسپیکرز کانفرنس کے دوران پاکستانی وفد کے ہمراہ کشمیر کا مسئلہ اٹھایا اور بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی۔ پاکستان کے ارکین پارلیمنٹ نے دنیا سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی تقریر کے دوران کشمیر سے اظہارِ یکجہتی پر بھارتی وفد نے ہنگامہ کھڑا کر دیا اور بھارتی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اپنے وفد کے ہمراہ شور شرابا شروع کر دیا۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھارتی وفد کے شور کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کا پردہ فاش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیریوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی عزائم پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیے اور اپنی نشست پر واپس آکر بھی بھارتی وفد پر خوف برسے۔ خیال رہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی ممالک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دے چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے 4 ہفتوں سے کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ حکومت پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھانے کا عزم کر رکھا ہے جب کہ وزیراعظم عمران خان بھی اس حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان سے رابطے کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں