ٹھٹھہ: نایاب پرندوں کی نسل کشی قدرتی حسن کے لئے سنگین خطرہ بن گئی

ٹھٹھہ (رپورٹ، رشید جاکھرو) موسم سرما کی سرد ہوائیں شروع ہوتے ہی ٹھٹھہ، کیٹی بندر، میرپورساکرو سمیت دیگر چھوٹی بڑی جھیلوں پر نایاب پردیسی پرندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے ان جھیلوں کی رونق میں اضافہ ہو گیا ہے۔ صبح ہوتے ہی پرندوں کی سریلی آوازیں فضا میں گونجتی ہیں جس سے ماحول خوشگوار ہوجاتا ہے۔

سائبیریا سے آنے والے مہمان اور بعض نایاب پرندوں کی آمد کے ساتھ ہی شکاریوں نے انہیں شکار کرنا بھی شروع کر دیا۔ پرندوں کو زندہ بھی پکڑا اور فروخت کیا جاتا ہے جبکہ ان کا گوشت بڑے شہروں کے مخصوص ہوٹلوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

ٹھٹھہ میں ڈگھوش پرندہ 1200 روپے، نیرگی 500 روپے، چیخلہ 250 روپے، کھیڑانٹی 120 روپے اور آڑی کو 150روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے متعدد اضلاع میں یہ پرندے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں 220 اقسام کے 6 لاکھ سے زائد پرندے آتے تھے تاہم اب یہ تعداد کم ہوگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں