ایس ٹی پی کے تحت “کراچی سندھ ہے” مارچ ٹھٹھہ سے ہوتا ہوا کراچی پہنچ گیا

ٹھٹھہ /ملیر(رپورٹ، رشید جاکھرو/منظور سولنگی) سندھ ترقی پسند پارٹی کا “کراچی سندھ ہے امن۔ مارچ” قافلہ کا ٹھٹھہ پہنچنے پر شہریوں نے شاندار استقبال کیا۔ قافلے کی قیادت چیئرمنک سندھ ترقی پسند پارٹی ڈاکٹر قادر مگسی کر رہے تھے۔قافلے میں شریک سینکڑوں گاڑیوں کے شرکاء پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں جبکہ ڈاکٹر قادر مگسی کو اجرک پہنائیں گئیں جس کے بعد قافلہ کراچہ کی طرف روانہ ہوگیا۔
ٹھٹھہ میں مختصر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ مادرِ وطن سندھ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ دشمن سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ اس وقت سندھ کے لوگوں کو نہ روٹی کی فکر ہونی چاہئے اور نہ ہی دوا کی پریشانی ہونی چاہئے بلکہ سندھ کی حفاظت کی خاطر مجاہد کے طور پر اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر آگے آنا ہوگا۔ تین نومبر کو فوارہ چوک کراچی پر لاکھوں

سندھی جمع ہو کر دنیا کو پیغام دیں گے کہ ہم سندھ کے محافظ ہیں۔ سندھ ہماری ماں ہے۔
کراچی کی حدود میں داخل ہونے کے بعد گگھر کے مقام پر قافلے کا شاندار استقبال کیا گیا۔ قافلہ آج ملیر سے درسانہ چھنہ، لنک روڈ سے ہوتا ہوا شام کو میمن گوٹھ پہنچ گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ ہم جنگ نہیں کرنا چاہتے۔ حکمرانوں نے 70 سالوں سے سندھ کا مقدمہ ہرایا ہے۔ ان کے ہمراہ مرکزی رہنما ڈاکٹر حمید میمن ایڈووکیٹ، عبدلفتاح سمیجو ایڈووکیٹ، الطاف جسکانی، خیر محمد مگسی بھی موجود تھے۔ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کی ہم کراچی میں رہنے والے مختلف زبانوں کے لوگوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ کراچی سندھ کا نہ ٹوٹنے والا حصہ ہے۔ سندھ اور کراچی کی زبان اب ختم کی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کے 8 دن کراچی کی گلیوں میں جاکر امن کا پیغام دیں گے۔ انہوں نے سندھ کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 3 نومبر کو لاکھوں کہ تعداد میں گورنر ہاؤس کے سامنے دہرنا دینے کے لیے پہنچیں تاکہ کراچی سندھ کو ثابت کیا جائے قافلہ آج ملیر کے علاقے ،لنک روڈ سے ہوتا ہوا شام کے وقت میمن گلشن حديد پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں