سندھ کا صنعتی شہر گھوٹکی کچرہ کنڈی میں تبدیل، بیماریوں کا خدشہ، عوام پریشان

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ کا صنعتی شہر گھوٹکی کچرہ کنڈی میں تبدیل ہوگیا۔ شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے ۔ سڑکیں گندے پانی کے تالاب میں تبدیل ہو گئیں جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پنجاب سے سندھ میں داخل ہوتے ہی سندھ کے پہلے ضلع گھوٹکی کا شمار سندھ کے بڑے شہروں کی فہرست میں ہوتا ہے۔ 2017 میں ہونے والی آدمشماری کے مطابق ضلع گھوٹکی کی کل آبادی 16 لاکھ 46 ہزار تین سو اٹھارہ ہے جن میں 8 لاکھ 49 ہزار 226 مرد، 7 لاکھ 97 ہزار51 عورتیں جبکہ 41 خواجہ سراء شامل ہیں۔ ضلع گھوٹکی میں 110 کے قریب چھوٹے اور بڑے کارخانے ہیں جبکہ “بیورو آف سٹیٹسٹکس” کے اعداد و شمار کے مطابق یہ ضلع 5 تحصیل، 34 یونین کونسل، 02 میونسپل کمیٹی اور 03 ٹاؤن کمیٹیوں پر مشتمل ہے۔

سندھ کا یہ اہم ضلع اس وقت گندگی اور بدبودار پانی کے تالاب کی عکاس بنا ہوا ہے۔ گھوٹکی کے باشندوں نے شہر کی ناقص صورتحال کی تصاویر سوشل میڈیا پر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سمیت اپنے منتخب اراکین کے اوپر بھی غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ شہر کے سماجی کارکن محمد اعظم چاچڑ نے یونائیٹڈ ٹی وی کو بتایا کہ شہر کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار میونسپل کمیٹی کا منتخب چیئرمین سید اصغر شاہ ہے جس نے اپنی ناقص کارکردگی کے باعث منتخب ہونے سے آج تک عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کام کیا ہے نہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کر سکا ہے۔

انہوں نے چیئرمین میونسپل کمیٹی پر الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی بجٹ کی مد میں2 کروڑ 30 لاکھ روپے فراہم کیے جاتے ہیں جن میں سے 1 کروڑ 75 لاکھ روپے سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے عملہ کی تنخواہوں میں خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ میونسپل کمیٹی گھوٹکی کے شہر کی مختلف علاقوں میں 5000 سے زائد دکانیں کرایہ پر دی ہوئی ہیں جن کا ماہانہ کرایہ بھی انہی کو ملتا ہے جس کی کوئی آڈٹ نہیں ہوتی۔ سندھ حکومت سے ملنے والی یہ رقم شہر میں سڑکوں پر سی سی بلاک و پیور لگانے، گلیوں کی صفائی کروانے، سٹریٹ لائٹیں لگوانے سمیت دیگر ترقیاتی کام کروانے کے لئے دی جارہی ہے لیکن یہ اپنی شاہ خرچیوں پر ضایع کی جا رہی ہیں اور عوام کو ذلت کی زندگی گذارنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے موقف جاننے کے لئے یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے گھوٹکی کے چیف میونسپل آفیسر سید نادر علی شاہ کے ساتھ رابطہ کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ میونسپل کمیٹی کے منتخب ہونے والے چیئرمین کی سرکاری سطح پر ٹریننگ ہونی چاہئے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کس طرح کام کرنا چاہئے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ لوکل گورمینٹ کمیٹی کی جانب سے ہمیں مراسلہ بھیجا گیا کہ رکارڈ فراہم کیا جائے جس کے بعد چیئرمین میونسپل کمیٹی سید اصغر شاہ نے دفاتر سے رکارڈ غائب کروا دیا اور ہمیں نہیں فراہم کیا گیا ۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ہے جبکہ ان کے فرائض انجام دینے میں چیئرمین میونسپل کمیٹی کی جانب سے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کی شکوہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حال ہی میں شہر کے راستوں پر گندے پانی کے تالاب بنے ہوئے تھے جن کو صاف کروانے کے لئے ایک بھی نہیں سنی گئی۔ جام سیف اللہ دھاریجو کے توسط سے ذاتی طور پر اس پانی کا اخراج ایک نجی پلاٹ میں کروایا گیا تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گھوٹکی شہر کی اس صورتحال پر یونائیٹڈ ٹی وی کی جانب سے چیئرمین میونسپل کمیٹی سید اصغر علی شاہ سے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تمام کام کیے ہیں جس کی تصاویر میرے پاس نہیں ہیں۔ اگر آپ گھوٹکی شہر کا جائزہ لیں گے تو شہر ہماری کارکردگی کی نوید آپ کو خود بتائے گا۔ شہر میں گندگی کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے حوالہ سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سماجی کارکن اعظم چاچڑ ایک پرائمری استاد ہے جس کا کام سیاست کرنا نہیں ہے جبکہ علاقہ کا چیف میونسپل افسر میرے ماتحت ہے نہ کہ میں اس کے ماتحت ہوں ۔
یہ کہہ کر چیئرمین میونسپل کمیٹی گھوٹکی سید اصغر علی شاہ نے فون بند کرنے میں ہی عافیت سمجھی اور مزید سوالات سننے سے قبل ہی فون منقطع کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں