سندھ میں صوبائی حکومت کی کھلی کچحریاں عوام نے مسترد کردیں، احتجاج، ڈگریاں پھاڑ کر خودسوزی کی کوشش

گھوٹکی (رپورٹ، جعفر شیخ) وزيرِ اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر میرپورماتھیلو میں ڈپٹی کمشنر آفيس میں کھلی کچحری کا انعقاد کیا گیا۔ کھلی کچحری میں صوبائی وزیر راشد ربانی اور فراز ڈیرو نے عوام کی شکایات سنیں۔ عوام نے بھی شکایات کے انبار لگا دیے۔ کھلی کچحری میں ایس ایس پی گھوٹکی فرخ لنجار، ڈپٹی کمشنر گھوٹکی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ خالد سلیم اور ضلع بھر کے مختلف محکموں کے افسران شریک ہوئے۔ عوام نے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان، اسکول نہ ہونے،ناکارہ ڈرینج سسٹم، ٹائونز انتظامیہ، پولیس گردی اور مختلف شکایات کے انبار لگا دیے۔
اس موقع پر صوبائی وزراء نے لوگوں کے مسائل سنے اور متعلقہ افسران کو ہدایات دیں کہ عوام کی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے جب کہ کھلی کچحری میں شریک عوام نے ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کے خلاف احتجاج کیا-
دوسری جانب دادو میں بھی پیپلز پارٹی کی کھلی کچہری میں عوام کے ستائے شہری صوبائی وزیر سید سردار شاہ پر بھڑک اٹھے۔ دادو سے نمائندہ یونائیٹڈ ٹی وی فیاض جعفری کے مطابق کھلی کچحری کے موقع پر بدنظمی دیکھی گئی۔ شہریوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا تاہم نوجوانوں نے اپنی ڈگریاں پھاڑ دیں اور معذور افراد نے خود سوزی کی بھی کوشش کی۔
اس موقع پر شہریوں نے صوبائی وزیر سید سردار شاہ کے خلاف نعریبازی شروع کردی۔ انتظامیہ کی جانب سے پولیس کی بھاری نفری طلب کی گئی جس نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو دھکے دے کر باہر نکال دیا۔
احتجاج میں شریک لوگوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانی ہے نہ بجلی اور نہ ہی گیس کی فراہمی۔ جھوٹے مقدمات کی زد میں آکر شہری پریشان ہوتے ہیں لیکن منتخب نمائندگان ہماری ایک نہیں سنتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر بار کھلی کچہری کر کےسیاسی نمائندے چلے جاتے ہیں لیکن ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں