ملیر، کوئلہ بردار بحری جہاز ساحل سے ٹکرا گیا، آلودگی کا خدشہ، انتظامیہ لاپتہ

ملیر (رپورٹ، منظور سولنگی) کوئلہ بردار بحری جہاز کراچی کی ساحلی بستی مبارک ولیج کے ساحل سے ٹکراگیا جس کے باعث علاقہ ایک مرتبہ پھر آلودگی کی زد میں آ گیا ہے۔ کوئلہ بردار جہاز کو تیز لہروں نے ساحل کی جانب دھکیل دیا جو مبارک ولیج کے ساحل کے چٹانی علاقوں میں پھنس گیا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی ماہی گیر سرفراز ہارون نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ طوفانی لہروں کے باعث جہاز کا نکالنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئلہ بردار جہاز کا تعلق بلوچستان میں قائم ایک چینی پاور کمپنی سے ہے۔ جہاز سے آلودگی پھیلنے کے خدشات بہت زیادہ ہیں جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوئلہ پھیلنے کی صورت میں مبارک ولیج کا ساحل ایک بارپھر آلودہ ہوجائیگا۔
واضع رہے کہ اکتوبر 2018 میں مبارک ولیج کے سمندر میں تیل بہنے کے باعث ساحل بری طرح آلودہ ہوگیا تھا۔ مبارک ولیج کے ساحل پر تیل لانے کے ذمہ داران کا تاحال پتہ نہیں لگایا گیا۔ ساحل پر تیل کے باعث شدید آلودگی سے مچھلیوں سمیت دیگر آبی حیات کو نقصان پہنچنا معمول بن چکا ہے۔
مقامی ماہیگیروں کا کہنا ہے کہ تیل کی وجہ سے ماہی گیروں کا روزگار بھی متاثر ہوا تھا۔ متعلقہ اداروں جی جانب سے تیل سے ماہیگیروں کے نقصانات کا تاحال ازالہ نہیں کیا گیا۔ اگر اس کوئلہ بردار جہاز کو نہیں نکالا گیا تو سمندری حیات کو ایک بار پھر نقصان ہوگا دوسری جانب رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ انتظامیہ اس سلسلے میں متحرک ہو گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں