سٹیل ملز بحران کی حقیقت کیا؟ جانئے!

ملیر سے (نامہ نگار، منظورسولنگی) 19 سال قبل برطرف مزدور رہنما شوکت علی جٹ کی جانب سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں ہائی کورٹ نے اسٹیل ملز انتظامیہ اور سکریٹری صنعت و پیداوار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 25 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں پٹیشنر شوکت علی جٹ نے بتایا کہ انہیں سن 2000 میں دو مرتبہ محض اس لیے برطرف کیا گیا کہ انہوں نے اسٹیل ملز میں ہونیوالی کرپشن،قیمتی اشیاء کی چوری،اور 8000ٹیکنیکل محنت کشون کی جبری اور میڈیکل گراونڈ کی چھانٹی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری اس جدوجہد پر اس وقت اسٹیل ملز انتظامیہ، وزارت پیداوار، سیکریٹری پیداوار یا کوئی اور متعلقہ افسر پالیسی مرتب کرتا، قیمتی اشیاء کی چوری اور ٹیکنیکل محنت کشوں کو نہ نکالا جاتا تو آج یہ ادارہ نہ تو بند ہوتا اور نہ ہی 700 ارب کا مقروض ہوتا۔
آج چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھی اس ادارے سے متعلق ریمارکس دینے پڑے جو کہ بلکل درست ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ 19سال سے بغیر تنخواہ کے جی رہے ہیں اور اپنی آبائی زمین گلشن حدید کا گھر و دیگر تمام پراپرٹی فروخت کرکے اور لاکھوں کا قرضہ اٹھا کر اپنا گزارا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں