ملیر، پولیس کی جانب سے لوٹ مار کی عجب کہانی

ملیر (نامہ نگار، منظور سولنگی) بھینس کالونی میں دودھ فروش و مویشی مالکان مبینہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی لوٹ مار کا آسان حدف بن گئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے غیرقانونی قرار دی گئی انجکشن استعمال کرنے کی آڑ میں باڑے مالکان نے اہلکاروں پر لاکھوں روپے رشوت وصولی کا الزام لگایا ہے۔ اس سلسلے میں دو روز قبل رات گئے مذکورہ رشوت وصولی کے عادی پولیس اہلکا ر سکھن بھینس کالونی میں کراچی فریش ملک ہول سیلر کے گھر میں جبری داخل ہوگیا تھا۔ گھر کے مالکان سے ڈکیتی کی کوشش کی۔
واقعہ کے خلاف دودھ فروش تنظیم کراچی کے صدر محمد جمیل نے سکھن تھانہ میں مقدمہ درج کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ اہلکاروں نے تاجر کے گھر میں داخل ہوکر انجکشن تلاش کی۔ ناکامی پر گھرسے 23 لاکھ روپے اور دیگر سامان اٹھایا۔ اطلاع پر علاقہ مکین ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر پہنچ گئے۔ خوف کے مارے مبینہ سی ٹی ڈی اہلکار سب کچھ واپس کر کے فرار ہوگئے۔
اطلاعات کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد سکھن پولیس اپنے پٹے بھائیوں کی تفیش میں سست روی سے کام لے رہی ہے۔ بھینس کالونی میں آئے دن اہلکاروں کی لوٹ مار کے سلسلے میں جب ڈیری ایسوسی ایشن عہدیداران محدی جمیل اور شاکر عمر گجر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے انکشاف کیا کہ سالِ نو کے ابتدائی دنوں میں پولیس نے انجکشن کے استعمال میں ملوث باڑے مالکان سے لاکھوں روپے بٹورے ہیں۔ پندرہ سے زائد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جس میں پولیس نے قانونی کارروائی کے بجائے فی کس بیوپاری سے 33 لاکھ روپے تک وصول کیئے ہیں۔
مذکورہ اہلکار رشوت وصولی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ جب چاہیں کسی بھی بیوپاری کے گھر میں گھس جاتے ہیں جو سراسر نا اصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محمد جمیل کے گھر داخل ہونے والے اہلکاروں کی وین گارڈن تھانے کی تھی جبکہ ملوث اہلکار معافی تلافی کی کوشش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ پولیس افسران ایسے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بناکر انصاف فراہم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں