کوٹڈجی، ٹویٹر پر نفیسا شاہ کی غلط بیانی پکڑی گئی

کوٹڈجی (پریس رلیز) سماجی تنظیم “یوتھ امپاورمنٹ سوسائٹی” کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ دو روز قبل ان کے گاؤں جانی برڑو میں ان کی تنظیم کے تحت کرونا وائرس کے امکان کے باعث اسپرے اور آگاہی کی مہم چلائی گئی تھی، وہ مکمل طور پر ان کی تنظیم نے اپنی مدد آپ کے تحت کی تھی جس میں علاقے کی کسی بھی سیاسی شخصیت، جماعت یا کسی این جی او وغیرہ کی کوئی مدد حاصل نہیں تھی۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ ان کی اس مہم کو سماجی میڈیا پر بہت سراہا گیا تاہم سرگرمی سے پہلے یا اس کے بعد ان سے کسی بھی سیاسی جماعت کا تعلق تھا نہ ہی کسی علاقہ کے منتخب نمائمندے نے ان کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔

سماجی میڈیا پر مقبولیت کے بعد آج جب ان کی مہم کے متعلق بی بی سی نے تفصیلی رپورٹ شایع کی تو بی بی سی کی اس رپورٹ کو پیپلزپارٹی کی جانب سے اپنی آگاہی مہم کا حصہ قرار دیا گیا۔ ٹویٹر پر “زاہد گنبھیر” نامی پیپلزپارٹی کے ایک کارکن نے بی بی سی پر شایع ہونے والی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ” سینیئر پارلیامینٹیرین ڈاکٹر نفیسا شاہ کی جانب سے اپنے حلقے کوٹڈجی و خیرپور میں کرونا وائرس سے احتیاط کے لئے بھرپور مہم شروع کی گئی ہے۔” ان کی ایسی ٹویٹ کے بعد پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکٹری اطلاعات سیدہ نفیسا شاہ نے بغیر تصدیق کیے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ بھی کر ڈالا جس پر یوتھ امپاورمنٹ سوسائٹی کی جانب سے شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے۔
تنظیم کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ہم ایسی ٹویٹ کو مسترد کرتے ہیں اور ہمیں نفیسا شاہ کی جانب سے جاری ایسی کسی مہم کا علم نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا گاؤں پسماندہ ہونے کے باوجود بھی نسیفا شاہ کبھی ہمارے پاس آئیں اور متعدد کوششوں کے باوجود بھی نہ ہی انہوں نے کبھی ہمارے مطالبات سنے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نفیسا شاہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے غلط اطلاعات پھہلانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومتِ سندھ کی جانب سے کرونا کے متعلق اقدامات پر انسانیت کی بنیادوں پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن نفیسا شاہ اور زاہد گنبھیر کی جانب سے غلط بیانی پر اگر 24 گھنٹوں کے اندر ٹویٹر پر ہی معافی نہ مانگی گئی تو احتجاج کے طور پر اپنے گاؤں میں نفیسا شاہ کی داخلا بند کردیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں