قمبر شہدادکوٹ، بااثر وڈیرے نے تشدد و تذلیل کے بعد عورت کے بیٹے کو بھی اغواء کرلیا۔

قمبر شہدادکوٹ (نامہ نگار، عامر علی کلہوڑو) تھانہ ڈرگھ کی حدود میں کبوتر پکڑنے کی معمولی بات پر جھگڑنے کے بعد بااثر وڈیرے کے بیٹے نے ساتھیوں سمیت خاتون کو گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاتون کے سر کے بال کاٹ کر منہ پر سیاہی لگا کر تذلیل کی اور خاتون کے کچے مکان کو آگ لگا کر فرار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ ضلع قمبر شہدادکوٹ کے نواحی گاؤں ٹھوڑی بجار میں پیش آیا ہے جہاں کبوتر پکڑنے کی معمولی بات پر بااثر وڈیرے کے بیٹے سمیت 7 ملزمان نے مبینہ طور پر خاتون کاملہ تنیو کو تشدد کا نشانہ بنا کر سر کے بال کاٹ دیئے۔ منہ پر سیاہی لگا کر منہ کالا کر دیا اور خاتون کے کچے مکان کو بھی آگ لگا دی۔
واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہوگئے جبکہ متاثرہ خاتون نے تھانہ ڈرگھ پہنچ کر رپورٹ درج کرادی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی شکایت پر ایک ملزم فضل محمد تنیو کو گرفتار کر لیا ہے تاہم 6 ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں متاثرہ خاتون کاملہ تنیو نے الزام لگایا ہے کہ ملزمان ان کا 18 سالہ بیٹے منصور تنیو کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں جو تاحال غائب ہے۔
متاثرہ خاتون نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور بااثر وڈیرے سے تحفظ فراہم کیا جائے جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی قمبر شہدادکوٹ عمران قریشی نے واقعہ کا نوٹس لے کر متاثرہ خاتون کو طلب کر لیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں