ملیر، کارخانہ مالکان لاک ڈاؤن کے احکامات سے زیادہ طاقتور، کرونا کے پھیلاؤ کا خطرہ

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی ) حکومت ِ سندھ کی جانب سے کرونا وائرس سے بچاوَ کیلئے لاک ڈاوَن کے اعلان پر کراچی کے ضلع ملیر میں عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مزدور بسوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر قومی شاہراہ، پورٹ قاسم اور گگھر کے صنعتی علاقوں میں واقع کارخانوں میں کام کیلئے جاتے ہیں جبکہ سمندر کنارے مچھلی صاف کرنے کے کارخانوں میں بڑی تعداد میں ماہی گیر انتظامی دباوَ کے باعث کام کرنے پر مجبور ہے۔ اس سلسلے میں مزدوروں نے اپنے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پورٹ قاسم کے قریب المؤمن کمپنی کے ایڈمن مینیجر وقاص خالد نے تمام مزدوروں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ڈیوٹی پر پہنچیں بصورت دیگر انہیں نوکریوں سے نکال دیا جائیگا۔
مزدوروں کا کہنا ہے کہ وہ سینکڑوں کی تعداد میں فیکٹری کے اندر بغیر حفاظتی اقدامات کے کام کرنے کے باعث کرونا وائرس کے خوف سے دو چار ہیں۔ دوسری جانب قائد آباد سے گگھر پھاٹک تک قائم صنعتی یونٹس میں بڑی تعداد میں مزدور جانے پر مجبور ہیں۔ سپر ہائی وے پر لکی سیمنٹ فیکٹری کے مزدوروں کا کہنا ہے کہ روزانہ سینکڑوں مزدور مجبوری کی حالت میں بسوں میں سوار ہوکر فیکٹری پہنچتے ہیں جہاں کوئی بھی حفاظتی انتظام نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کنارے ماہی گیروں نے شکایت کی ہے کہ مچھلی کی صفائی کیلئے کارخانوں، جہاں چینی ملازم بھی کام کرتے ہیں، ماہی گیروں کو جبری طور پر بلایا جاتا ہے جبکہ سمندر کے اندر کھڈی جزیرے پر موجود کمپنی میں بھی بڑی تعداد میں ماہی گیر کام کےلیے جاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت لوگوں کو گھروں پر محدود رہنے اور کرونا وائرس سے بچنے کی تدبیریں بتا رہی ہے تو دوسری طرف صنعتکار حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مزدوروں کو دھمکا کر انہیں فیکٹریوں میں جمع کرکے حکومتی اقدام کی منافی کر رہے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ حکومت لاک ڈاوَن ختم کرے یا اپنے اقدامات پر عمل کرانے میں سختی کرے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں