حکومتِ سندھ نمازِ جمعہ پر پابندی پر عملدرآمد کروانے میں ناکام

کراچی (ویب ڈیسک) کرونا وائرس کے خطرات کے باعث حکومتِ سندھ کی جانب سے نمازِ جمعہ پر عائد کی جانے والی پابندی صرف شہری علاقوں تک ہی محدود رہی۔ اطلاعات کے مطابق آج دوپہر نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں شامل ہونے کے لئے مختلف شہروں میں شہریوں کی جانب سے پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔ زیادہ تر مساجد میں پولیس اور رینجرز نے نافذ کردہ پابندی پر عملدرآمد کروایا جبکہ حیدرآباد، دادواور لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں میں پابندی کے باوجود بھی نمازِ جمعہ کے اجتماعات منعقد کئے گئے۔
حیدرآباد کے آفندی ٹاؤن میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ احتمام “فیضانِ مدینہ” نامی ایک مسجد میں جمعہ نماز کا اجتماع دیکھا گیا۔ برہانی ٹاؤن میں واقع بوہری برادری کے جماعت خانہ میں بھی نمازِ جمعہ کی تیاریاں جاری تھیں کہ ایس ایس پی حیدرآباد کے پہنچنے پر لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
دادو کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائگی کے وقت پولیس اور لوگوں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ مسجد میں لوگ جمع ہو رہے تھے کہ پولیس نے پابندی پر عملدرآمد شروع کروانے کی کوشش کی تو نمازی پولیس پر حملہ آور ہوگئے۔ بعدازاں پولیس نے پیش امام سمیت 3 لوگوں پر مقدمہ درج کردیا۔

لاڑکانہ میں حکومتِ سندھ کی جانب سے مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کے حکم ہوا میں اڑا دیے گئے۔ جمیعتِ علماءِ اسلام کے زیرِ اہتمام جامع مسجد اشاعت القرآن سمیت متعدد مساجد میں نماز جمع کے اجتماعات کیے گئے۔
ٹھٹھہ میں پولیس نے پابندی پر عملدرآمد کرواتے ہوئے مسجد سے ایک نمازی کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے نتیجے میں تاجر اتحاد کے صدر کامران قریشی کی قیادت میں درجنوں شہریوں نے پولیس چوکی کے سامنے احتجاج بھی کیا۔
سندھ میں مختلف شہروں میں نمازِ جمعہ کے دوران شہریوں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں مساجد کے اندر نمازِ جمعہ کے اجتماعات اپنے معمول کے مطابق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں