لاک ڈاؤن : کیا کوئی زندگی کی سسکیاں سننے کو تیار ہے؟

سکھر (رپورٹ، عامر علی عباسی) تھیلیسیمیا ایک ایسا مرض ہے جس میں مبتلا مریض خون کے عطیے پر اپنی زندگی کے کارواں کو چلاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں انسان کا جسم خون کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنی زندگی کا پیہو دوسروں کے خون کے رحم و کرم پر چلتا ہے۔ سکھر بلڈ بینک نے اس مرض میں مبتلا مریضوں کیلئے وارڈ قائم کر رکھا ہے جو عام طور پر روزانہ پچاس بچوں کو خون کا عطیہ مفت فراہم کرتا ہے۔

اس عمل کو جاری رکھنے کیلئے سکھر بلڈ بینک مختلف یونیورسٹیز اور کالجز میں بلڈ کیمپ منعقد کرواتا ہے۔ کرونا وائرس کی جان لیوا وبا کے باعث یہ سرگرمیاں منعقد نہیں ہوپا رہیں جس کی وجہ سے ننھے بچے خون کی ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو منعقد کرانے والے سرگرم نمائندے صابر علی نے بتایا کہ اس بلڈ بینک میں 900 سے زائد بچے رجسٹرڈ ہیں۔ روزانہ جہاں عام طور پر پچاس بچوں کو خون کا عطیہ فراہم کرتے تھے، اب مشکل سے پچیس بچوں کو خون فراہم کررہے ہیں۔

اس سلسلے میں جب بحیثیت سکھر کے شہری ہونے کی بنیاد پر میں نے بات کی تو میرا پہلا سوال ان سے یہ تھا کہ حکومت نے گھروں پر رہنے کی تلقین کی ہے اور آپ تک پہنچنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے والوں کو پک اینڈ ڈراپ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ رضاکار سے پہلے اس کی صحت کے متعلق سوال کرتے ہیں اور کروناوائرس کی بتائی ہوئی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہیں تاہم ہمارے پاس کرونا وائرس کی ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے۔ اس لیے بہت سی عوام خون دینے سے گھبرا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وبا کے پھیلاؤ کیلئے حکومت کا اقدام عوام الناس کیلئے ایک اچھا عمل ہے لیکن سکھر کے نوجوان اس مشکل گھڑی میں نونہالوں کو خون کا عطیہ دیکر کسی کی زندگی کے بجھتے دیئے کو روشن کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری کوشش جاری ہے تاہم میڈیا کی کوریج نہ ملنے کی صورت میں ہماری اپیل زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ پارہی۔ ہماری سکھر کی باشعور عوام سے التجا ہے کہ موت برحق ہے لیکن اپنے خون کا عطیہ دیکر کسی کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں