ملیر، کرونا قبرستان کے خلاف علاقہ مکینوں کو شدید تحفظات

ملیر ( نامہ نگار، منظورسولنگی ) لنک روڈ کے قریب یونین کونسل چنڈ پارو کے قدیمی عیسب جوکھیو گوٹھ کے قریب کرونا وائرس سے ہلاک میتوں کی تدفین کیلئے 80 ایکڑ زمین پر قبرستان قائم کیا گیا ہے جہاں اب تک ڈاکٹر قادر سومرو سمیت دو میتوں کو سپردِ خاک کیا گیا ہے۔ قبرستان کے لئے زمین مختص کرنے والے حکومتی فیصلے کے پر ملحقہ آبادیوں میں تشویش کی لہر پھیل گئی ہے۔
چیئرمین یونین کونسل چنڈ پارو نے صحافیوں کو بتایا کہ آبادی کے درمیان خطرناک وائرس میں مبتلہ میتوں کی تدفین وائرس کے پھیلنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر ملیر، منتخب نمائندگان سے اعتراض کرتے ہوئے قبرستان کوگنجان آبادی کے علاقے جس میں گلشنِ حدید سمیت سینکڑوں گوٹھ شامل ہیں، سے باہر منتقل کرکے کسی ویرانے میں قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے حکومتِ سندھ سے اپیل کرتے ہوئے قبرستان کے قیام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میتیں دفن کرنے سے قبل کسی بھی مقامی آبادی کے منتخب نمائندے اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اس وقت لوگ میں یونین کونسل کے بلدیاتی نمائندوں پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ قبرستان کو یہاں سے ختم کرائیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ِ سندھ ان کی گذارشات پر قبرستان کو یہاں سے منتقل کرنے کے احکامات جاری کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں