ملیر، کارخانوں نے حکومت کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا

ملير (نامہ نگار، منظورسولنگی) ملیر اور اس کی مضافات میں واقع کارخانوں نے حکومت ِسند ھ کی جانب سے ملازمین کو لاک ڈاوَن کے دوران نوکریوں سے برخاست نہ کرنے کی ہدایت کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ااس سلسلے میں محکمہِ لیبر کے افسران پر شکایات کے ازالے کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دیکر ان کے فون نمبر آویزاں کیے گئے تاہم لیٹر جاری ہوتے ہی ضلع ملیر میں قائم آرٹسٹک کمپنی سمیت پورٹ قاسم، گگھر ،لانڈھی سمیت دیگر اداروں سے دو ہزار سے زائد محنت کشوں و ملازمین کو یہ کہہ کر نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے کہ تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔
ایسی صورتحال کے بعد ملازمین نے فیکٹری سے باہر نکل کر شدید احتجاج کیا تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملازمین کو احتجاج سے روکتے ہوئے وہاں سے چلے جانے کی ہدایت کی۔ آرٹسٹک کمپنی کے اسسٹنٹ کوالٹی مینیجر کامران صدیقی و دیگر ملازمین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک کے حالات کرونا وائرس کے باعث شدید خراب ہیں اور محنت کشوں کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ اس وقت صنعت کار حکومتِ وقت کے احکامات پر عمل درآمد کے بجائے غریب ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو فنی تعلیم سے آراستہ ہیں وہ کسی نہ کسی فیکٹری میں لگ جائیں گے لیکن آرٹسٹک کمپنی انتظامیہ کی جانب سے نکالے گئے دو ہزار ملازمین مزدور اور غریب ہیں جنہیں بےروز گار کرنا موجودہ حالات میں معاشی قتل کے برابر ہے۔ حکومتِ سندھ ایسے قانون شکن صنعت کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے انہیں ہدایات پر عمل درآمد کرانے پر مجبور کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں