اسٹیل مل لیبر یونین نے کرپشن کا بھانڈہ پھوڑ دیا

ملیر ( نامہ نگار، منظورسولنگی ) پاکستان اسٹیل انصاف لیبر یونین ( سی بی اے) کے ترجمان نے پاکستان اسٹیل کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر عامر ممتازکی جانب سے میڈیا کو دیئے گئے اعداد و شمار کے حوالے سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے کہ انہوں نے ادارے کے ریٹائرڈ ملازمین کو واجبات کے ضمن میں 20ارب روپے کی ادائیگی کرنے کا تذکرہ تو کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کب کریں گے جنہوں نے آج ادارے اور ملازمین کا یہ حال کیا ہے۔
سی بی اے ترجمان نے مزید کہا کہ عامر ممتاز نے یہ نہیں بتایا کہ ادارے کی آمدنی صفر اور اخراجات بے پناہ ہیں لیکن انہوں نے ہی تین بھرتیاں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر کیں۔ ایک عورت کو روزانہ 5000روپے تنخواہ پر بحیثیت مشیر برائے سی ای او بھرتی کیا گیا جبکہ سی ای او تعینات ہونے کے بعد اب تک وہ کراچی آئی ہی نہیں۔ آئے روز اسٹیل ملز میں چوریاں ہورہی ہیں مگر انتظامیہ پاکستان اسٹیل کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چوریوں کی روک تھام کےلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ۔ 5سال کے دوران تنخواہوں کی ادائیگی کےلئے 30ارب روپے سے زائد کا قرضہ ہوچکا ہے تو اس کے ذمہ دار ملازمین نہیں بلکہ نا اہل وکرپٹ انتظامیہ اورگذشتہ حکومتیں ہیں ۔ ملازمین آج بھی پہلے کی طرح صبح گھر سے ڈیوٹی کرنے کےلئے آتے ہیں اور اپنے وقت پر جاتے ہیں۔
ترجمان سی بی اے شفقت بھٹو کا کہنا ہے کہ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر پاکستان اسٹیل کا بیان صر ف اور صرف بغصِ انصاف لیبر یونین ہے اور کچھ نہیں۔ سی بی اے کو جوگاڑیاں اور دفتر انتظامیہ پاکستان اسٹیل کی جانب سے دئے گئے ہیں وہ چارٹر آف ڈیمانڈ 12جون 2008تا 2010کی کلاز نمبر160کے تحت ہیں جس میں گاڑیوں کی تعداد 20ہے اور پیٹرول 300لیٹر ماہانہ لیکن انصاف لیبر یونین نے ادارے کی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے 7عدد گاڑیاں اور 85لیٹر فیول ماہانہ پر استعمال کررہی ہے۔ عامر ممتاز صاحب کو یہ کیوں نظر نہیں آتا کہ اسٹیل ملز کے افسران بند ادارے میں سیکڑنوں گاڑیاں بمعہ ہزاروں لیٹر فیول استعمال کررہے ہیں بلکہ دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک ایک افسر نے تین تین گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فل فور انتظامیہ کو تبدیل کیا جائے اور ٹیکنیکل انتظامیہ تعینات کرکے ادارے کو جلد بحال کیا جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں