ملیر، کارخانوں کی ہٹ دھرمی برقرار، ہزاروں محنت کشوں کا معاشی قتل

ملیر (نامہ نگار، منظور سولنگی) کراچی کی مقامی صنعتوں سے محنت کشوں کی بے دخلی کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ اس سلسلے میں ضلع ملیر میں قومی شاہراہ سے گگھر تک دونوں اطراف قائم سینکڑوں کارخانوں سے ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں کو فارغ کردیا گیا ہے جن میں یونس ٹیکسٹائیل، الکرم ٹیکسٹائیل، ٹائیلز فیکٹریاں و دیگر شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں فارغ کیے گئے محنت کشوں نے کارخانوں کے باہر احتجاج کیا۔
اس موقع پر محنت کشوں کا کہنا تھا کہ ایک طر ف کرونا وائرس کا خوف دوسری جانب لاک ڈاوؤن کے باعث بیروزگاری کا عذاب ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ صنعتکار پیداواری عمل رکنے کا بہانہ بنا کر بیروزگار کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومتِ سندھ کے احکامات کاغذ تک محدود ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور راشن کی عدم وصولی کے باعث ان کے گھروں میں فاقہ کشی ہے۔
محنت کشوں کا مزید کہنا تھا کہ اس جیسا دور انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ محنت کشوں کیلئے خصوصی پیکج پر عملدرآمد ؎ صنعتکاروں کو مجبور کرے کہ وہ محنت کشوں کو مجبور نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں