لاک ڈاؤن، رونق کا گلدستہ “کینجھر جھیل” مرجھا گیا

ٹھٹھہ (نامہ نگار، رشید جاکھرو) کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث ٹھٹھہ کی تاریخی کنیجھر جھیل ویرانی کا منظر پیش کرنے لگی۔ موسمِ گرما میں دورانِ تعطیلات کراچی سمیت دیگر علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میںسیاح جھیل میں تفریح کے لیےآیا کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن کے باعث جھیل میں ایک طرف ویرانی ہے تو دوسری طرف مقامی افراد کا روزگار بھی ختم ہوگیا ہے۔

ٹھٹھہ میں واقع تاریخی کنیجھر جھیل جو کراچی کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ میٹھے پانی کی ایک بڑی جھیل بھی ہے، اس جھیل پر چھٹی کے دونوں میں ہزاروں کی تعداد میں کراچی حیدرآباد سمیت اندرونی ملک سے بڑی تعداد میں سیاح سیر وتفریح کے لیےآیا کرتے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد ہوتے تھے تاہم ملک میں کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث کنیجھر جھیل پر تفریح بھی ماند پڑ گئ ہے۔ ہرطرف ویرانی ہی ویرانی چھا گئ ہے۔

کینجھر پر واقع ہوٹلز اور دیگر کاروبار بھی مکمل طور پر بند ہیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث سیاح نہ آنے سے مقامی افراد کا روزگار بھی شدید متاثر ہونےکے ساتھ بے روزگار ہوگئے ہیں۔ گرمیوں میں اس جھیل پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ آتے تھے اور صبح سے شام تک جھیل کے ٹھنڈے اور میٹھے پانی میں نہانے کے ساتھ جھیل میں کشتی پر سوار اور ٹیوب پر بیٹھ کر سیر و تفریح کرتے تھے لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر حکومتِ سندھ کی جانب سے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے باعث اب ویرانی کا سماں پیش کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں