کرونا وائرس، ملیر سے ایک نظرانداز ہونے والے گوٹھ کی دہائی

ملير، نامہ نگار یونائیٹڈ ٹی وی منظور سولنگی اور عوامی پریس کلب کی صحافتی ٹیم سخت گرمی، کرونا وائرس کے خوف اور گھروں میں رہنے کے احکامات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو اہمیت دیتے ہوئے ایسے گوٹھ پہنچے جہاں آج تک کوئی بھی نہیں پہنچ پایا۔ یونین کونسل رزاق آباد کے قدیمی گوٹھ صابو ہیرو کلمتی آدھی صدی سے پورٹ قاسم پل کے قریب گندھارا کمپنی کے عقب میں آباد ہے جہاں 100سے زائد گھر اور 840 مکین بغیر بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، گیس، تعلیم، صحت سے محروم زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

انتظامیہ نے انہیں جان لیوا عالمی وبا کرونا وائرس کے دور میں بھی راشن کی فراہمی میں یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ صحافیوں کے دورے پر گوٹھ کے مکینوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس اب پھیلا ہے لیکن ہم تو ضروریاتِ زندگی سے پہلے ہی محروم ہیں۔ سن رہے ہیں کہ حکومت نے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور مزدوری سے باز رکھ رہی ہے۔ حکومتی نمائندے راشن گھر گھر پہنچا رہے ہیں لیکن ہم تو ایک ماہ کے زائد عرصے سے بیروزگار ہو کر بھوک افلاس میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک کوئی بھی امداد دینے کو نہیں آیا لیکن صرف آپ صحافی حضرات آئیں ہیں جنہیں ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ آپ لوگ ہماری آواز ایوانوں تک پہنچانے آئے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فل فور ہمارے ہاں راشن کی فراہمی کو ممکن بناکر ہماری مدد کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں