کیا کراچی سے تحریکِ انصاف کی ایک اور وکٹ گرنے کو تیار؟

ملیر (نامہ نگار، منظورسولنگی) این اے 256 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم این اے نجیب ہارون کی جانب سے مایوس ہوکر استعیفیٰ کے اعلان کے بعد حال ہی میں ملیر کے مضافات کیلئے مقرر کردہ صدر قادر بخش کلمتی نے بھی پارٹی عہدیداران و گورنر سندھ کی جانب سے اہمیت نہ دینے اور مسائل حل نہ ہونے پر استعیفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے۔ تحریکِ انصاف کراچی میں شدید دراڑیں پڑنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ، پارٹی قیادت کی جانب سے ایم این اے نجیب ہارون اور ملیر کے صدر قادر بخش کلمتی کو منانے کی سرتوڑ کوششیں کی جاری ہیں۔
تحریکِ انصاف ملیر کے رہنما قادر بخش کلمتی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے استعفیٰ کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ عمران اسماعیل اور تحریکِ انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی جانب سے کرونا وائرس کی اس مشکل وقت میں ملیر کو نظر انداز کرنے اور منظورِ نظر لوگوں کو نوازا جارہا ہے۔ تحریکِ انصاف سندھ کی قیادت اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو وفاقی حکومت سے ملنے والے راشن پر بھی سیاست کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ملیر کی قیادت اور کارکنوں کو تحریکِ انصاف سندھ کی قیادت مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ کارکنوں اور عوام فوٹو سیشن میں نہیں بلکہ ان کے مسائل حل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
قادر بخش کلمتی نے مزید کہا کہ میں نے کارکنوں اور عوام کے مسائل حل نہ کرنے کی شکایات کی لیکن تحریکِ انصاف سندھ کی قیادت سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ایسے عہدے کا کیا فائدہ جو اپنے ضلع کے عوام کے لئے ایک صدر کچھ نہ کر سکے؟ جماعت نہیں چھوڑوں گا لیکن صدارتی عہدے سے استعیفیٰ کا اعلان کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں