تیل بحران کس حد تک سنگین ہو سکتا ہے؟

کراچی (رپورٹ، وجیہ الدین احمد)عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ٩٠ فیصد کمی بلاشبہ غیر معمولی ضرور ہے لیکن غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ خام تیل کے داموں کو لے کر روس اور سعودی عرب کے درمیان ایک ماہ سے جاری تنازعہ کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی ترسیل بہت زیادہ جبکہ مانگ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خام تیل کی قیمت اس وقت نچلی ترین سطح پر پہنچی جب OPEC اور G-20 ممالک نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ تیل کی پیداوار میں روزانہ بنیادوں پر لاکھوں بییرلس کی کمی کی جائے۔ یہ اور بات ہے کہ خام تیل کی نئی قیمتوں کا اجراء مئی میں ہونا تھا جب معاہدوں کا نئے مالی سال میں ازسرِ نو نفاذ ہوتا۔ یہ بات تو طے ہے کہ عالمی منڈی والے اس تمام صورتحال میں بروقت استحکام لانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے جُون کے لیے طے پا جانے والے معاہدوں کے تحت تیل کی قیمت میں صرف ١٨ فیصد کمی متوقع ہے جس کا مطلب خام تیل کی فی بیرل قیمت 20.43 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ مشرقِ وُسطہ، امریکا اور افریکہ سمیت وہ ممالک جن کے پاس تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں وہ اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہیں ۔
٢ اپریل کو وائٹنگ پیٹرولیم نامی کمپنی نے دیوالیہ نکلنے کا اعلان کیا۔ اس طرح شدید بحران کی نذر ہونے والی یہ پہلی کمپنی ٹہرتی۔ کہا جا رہا ہے کہ ہالیبرٹن، میراتھون آئل، چیزاپیک اور آکسیڈینڈل آئل سمیت کئ ١٠٠ آئل کمپنیاں سنگین معاشی بحران سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ سعودی عرب، عمان اور بحرین جیسے ممالک جو خام تیل کے ذخائر سے بھرے پڑے ہیں، سبھی نے امدادی پیکجز کامطالبہ کردیا ہے۔ مانگ کم اور ترسیل بہت زیادہ ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کو جو نقصان ہوا ہے اُس کو پورا کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ انرجی پریکٹس کے شریک چیئرمین بڈی کلارک نے کہا ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس سے پہلے کبھی ایسا شدید بحران اور مندی نہیں دیکھی۔
انرجی سٹریٹیجسٹ ریان فٹز ماریس نے کہا ہے کہ کئی آئل کمپنیاں قائم نہیں رہ پائیں گی۔ عالمی وبا نے بڑی بڑی آئل کمپنیوں کے لیے خریدار تلاش کرنا مشکل بنا دیا ہے حتیٰ کہ وہ بھاری رعایتیں دینے کو بھی تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں