ظالموں کو سزا دلوا کر ہی رہوں گی، امِ رباب چانڈیو

گھوٹکی (نامہ نگار، جعفر شیخ) دو سال قبل میہڑ میں قتل ہونے والے یوسی چيئرمين کرم اللہ چانڈیو اور بیٹوں کے قتل کیس کی سماعت میرپورماتھیلو کی انسدادِ دہشتگردی عدالت میں ہوئی۔ ملزمان کے وکیل کی عدم حاضری پر سماعت 9 مئی تک ملتوی کردی گئی۔
عدالت کے باہر مقدمہ کی مدعی امِ رباب چانڈیو نے صحافیوں کو بتایا کہ میں دوسالوں سے مقدمے کی پیروی کر رہی ہوں اور مجھے عدالت سے انصاف کی امید ہے لیکن مقدمے کے ملزمان خواہ مخواہ مقدمے کو طول دے رہے ہیں۔ کبھی ملزمان پیش نہیں ہوتے تو کبھی وکیل پیش نہیں ہوتا۔ ہمارے عینی شاہدین کو بھی ہراساں کیا گیا ہے اور انہیں دھمکیوں سمیت ان پر حملے بھی کیےو جارہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام ہتھکنڈے اس لئے استعمال کئے جا رہے ہیں تاکہ میں مقدمے کی پیروی سے دستبردار ہوجاؤں لیکن میں سندھ کی بیٹی ہوں۔ ظالموں سے لڑوں گی اور میں بزدل نہیں کہ مقدمے سے دستبردار ہوجاؤں۔ مجھے عدالتوں پر بھروسہ ہے کہ مجھے انصاف ضرور ملے گا اور ملزموں کو سزا ضرور ملے گی۔
واضع رہے کہ میہڑ میں قتل ہونے والے یونین کونسل چیئرمین اور اس کے بیٹوں کا مقدمہ رکن سندھ اسمبلی اور چانڈیو قبیلے کے سردار برہان چانڈیو، سردار چانڈیو اور دیگر پر عائد ہے۔ سماعت کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری عدالت کے اطراف میں موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں