سائبر برسی، جی ایم سید کو زبردست خراجِ عقیدت

کراچی (رپورٹ، سالار لطیف) سندھ کے قومپرست رہنما اور جدید قومپرستی کے روح رواں غلام مرتضیٰ سید المعروف “سائیں جی ایم سید” کی 25 ویں برسی منائی گئی۔ سندھ میں جی ایم سید کے نظریے سے وابسطہ سیاسی جماعتیں سال میں دو بڑے تہوار مناتی ہیں جن میں ایک ان کا جنم دن جو ہر سال 17 جنوری کو منایا جاتا ہے تاہم دوسرا بڑا تہوار ان کی برسی ہوتی ہے جو ہر سال 25 اپریل کو منائی جاتی ہے۔
جی ایم سید کی مزار ضلع جامشورو میں واقع ان کے آبائی قصبہ سن میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ قومپرست جماعتیں سن میں ہی یہ تہوار مناتی ہیں جہاں مختلف تنظیمیں اپنے طور پر مختلف انداز میں اپنے رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہیں۔ بیشتر جماعتیں ان دو دنوں پر جلسے منعقد کرتی ہیں جن کے موقع پر سندھ بھر سے قافلوں کی صورت میں آنے والے ہزاروں کارکنان جی ایم سید کی مزار پر حاضری بھی دیتے ہیں جبکہ ان کے خاندان کی جماعت یعنی سندھ یونائیٹڈ پارٹی جی ایم سید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے عارفانہ کلام کی محفلِ سماع کا بھی انعقاد کرواتی ہے جس میں نظریات اور سیاسی وابسطگیوں سے بالاتر ہو کر سندھ بھر سے تمام قومپرست جماعتوں کے کارکنان بھرپور شرکت کرتے ہیں۔

دیکھا گیا ہے کہ سندھ میں جی ایم سید کو لوگوں کی جانب سے سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر ایک دیومالائی شخصیت کے طور پر پہنچانا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج تک جی ایم سید کی شخصیت کو کوئی بھی قومپرست جماعت محض اپنے ہی رہبر کے طور پر ثابت نہیں کر سکی جس کے باعث “جیئے سندھ ہلچل” سے وابسطہ تمام قومپرست جماعتیں جی ایم سید کو ہی اپنا رہبر مانتی ہیں اور چونکہ جی ایم سید نے اپنے نظریے میں بھی سندھی لوگوں کو ایک قوم کی حیثیت دے رکھی ہے تو اس لئے ان کی شخصیت آج تک کسی ایک جماعت کی مشعلِ راہ نہیں بن سکی لیکن چونکہ “سندھ یونائیٹڈ پارٹی” کی رہنمائی کرنے والے سید جلال محمود شاہ اور سید ذین العابدین شاہ انہی کے خاندان کے چشم و چراغ ہیں اس لئے اس تنظیم کے لئے ان کی خاندانی جماعت کے تصور کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سندھ بھر میں قومی تحریک سے وابسطہ سیاسی کارکنان ان دو رہنماؤں کے ساتھ بھی جذباتی حد تک محبت کرتے دیکھے گئے ہیں۔
گذشتہ روز 25 اپریل پر جی ایم سید کی 25 ویں برسی کے موقع پر بھی سندھ بھر سے “سائبر قافلے” نکلتے دکھائی دیئے جن کا مقصد تو اپنے رہبر کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہی تھا لیکن ان کی منزل اس مرتبہ سن نہیں تھی۔ پوچھنے پر پتہ لگا کہ وہ تمام تر قافلے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر کیجانب گامزن تھے۔ جی ایم سید کی وفات کے بعد شاید یہ ان کی پہلی برسی تھی جس کو منانے کے لئے انتظامات کی شمع نوجوانوں نے تھام رکھی تھی اور ان کی حکمتِ عملی کی ہی کامیابی دیکھی گئی کہ ملک بھر سے بائیں بازو کی سیاست کی راہ کے کارکنان نے برسی کی اس اپنی نوعیت کی منفرد تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

جی ایم سید کی برسی کے موقع پر ان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اس مرتبہ ٹویٹر کے مقام کا انتخاب کیا گیا۔ سندھ میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر متحرک کچھ سیاسی کارکنان نے برسی کے موقع پر ٹویٹر ٹرینڈ چلانے کا فیصلہ کیا اور سندھ بھر سے لوگوں کو اس ٹرینڈ میں شامل ہونے کو کہا گیا۔
25 اپریل کو صبح کے وقت ٹویٹر پر #TributeToSainGMSyed کے زیرِ عنوان ایک ٹرینڈ کا آغاز کیا گیا جس میں سندھ بھر سے لوگوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ٹرینڈ ایک بین الاقوامی فورم پر ہونے کی بنا پر بیرونِ ملک سے بھی لوگوں نے جی ایم سید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے بھرپور حصہ لیا۔

رہنما پیپلزپارٹی فرحت اللہ بابر نے اس ٹرینڈ کے تحت جی ایم سید کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “جی ایم سید بانیانِ پاکستان میں سے ایک تھے۔ خواہ انہی کی کاوشوں سے پاکستان بننے کی قرارداد سندھ اسیمبلی سے منظور ہوئی تھی لیکن باوجود اس کے ان کو غدار قرار دیا گیا۔”

افراسیاب خٹک نے ملک کی تاریخ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ “تحریکِ پاکستان میں بنگالیوں کا اہم کردار تھا لیکن ان کو علیحدہ کیا گیا جن کے بعد سندھ کی رہنمائی کرنے والے جی ایم سید کو بھی غدار قرار دیا گیا۔ کیا تاریخ تھی؟”

نامور مصنف نصیر میمن نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ “جی ایم سید کی تصانیف بہت ہی اعلیٰ تھیں۔ خاص طور پر ان کی دو تصانیف سندھ کی نسلوں پر اثر انداز ہوئیں جن میں پیغامِ لطیف اور جیسا میں نے دیکھا شامل ہیں۔ جی ایم سید آج امن کے لئے کوشان دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔”

سعید سانگری نے اس ٹرینڈ کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ “جی ایم سید واحد سیاستدان تھا جس نے سیاست سے لے کر مذہب تک 60 سے زائد کتب تحریر کیں۔”

معروف ٹک ٹوک اسٹار اقصیٰ کیجھر نے تبصرہ کیا کہ “ہیرو کبھی مرتے نہیں ہیں تاہم وہ ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ “

جی ایم سید کی برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے سندھ کے نوجوانوں کی رہنمائی میں منائی جانے والی اس “سائبر” تقریب نے دیکھتے ہی دیکھتے 14 گھنٹوں میں دو لاکھ سے زائد ٹویٹ حاصل کیں جس کے بعد ٹویٹر کے ٹرینڈز کی دنیا بھر کی فہرست میں شامل ہونے والا ٹویٹر کا یہ واحد ٹرینڈ بن گیا۔
گذشتہ روز ٹویٹر پر پاکستان کے اندر دو بڑے ٹرینڈز چل رہے تھے جو دونوں اپنی نوعیت کے بہت بڑے ٹرینڈز تھے جن میں ایک ٹرینڈ مولانہ طارق جمیل سے متعلق تھا اور دوسرا ٹرینڈ پاکستان تحریکِ انصاف کی 24 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پاکستان کی حکمران جماعت کے رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے چلایا جا رہا تھا۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں سے ٹویٹر اور سماجی روابط کی دیگر ویب سائٹ کے تکنیکی استعمال کے تناظر میں پاکستان تحریکِ انصاف کی ٹیم کا ایک اپنا مقام ہے لیکن ان کی جانب سے چلنے والے ٹرینڈ سے مدِ مقابل ہوکر سندھ کے نوجوانوں کا تخلیق کردہ ٹرینڈ دو لاکھ سے زائد ٹویٹس حاصل کرکے کامیاب ہوا ہے۔ یہ سندھ کے روشن خیال نوجوان کی ایک بہت بڑی فتح ہے جس کو انہوں نے جی ایم سید کے ساتھ عہدِ وفا کے انتساب کا نام دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں